عبدالغنی برادر، طالبان کے اقتصادی امور کے نائب وزیر، نے افغانستان کی اقتصادی ترقی میں نجی شعبے کے اہم کردار پر زور دیا اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت پر بات کی۔
کابل میں ایک تقریب کے دوران، طالبان کے وزیر اعظم کے نائب عبدالغنی برادر نے واضح کیا کہ افغانستان کی اقتصادی ترقی کے لیے نجی شعبے کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس شعبے سے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں زیادہ کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
برادر نے کہا کہ حکومت اکیلے تمام اقتصادی بوجھ نہیں اٹھا سکتی، اس لیے نجی شعبے کے ساتھ فعال تعاون کی ضرورت ہے۔ طالبان انتظامیہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں اور تاجر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
طالبان کے اقتصادی نائب نے اشارہ دیا کہ حکومت غیر ضروری سرمایہ کاری کی رکاوٹوں کو ختم کرنے اور انتظامی عمل کو آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشترکہ منصوبوں میں شامل ہونے کی دعوت دی، جو افغانستان کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
حالیہ سالوں میں، نجی شعبہ افغانستان کی معیشت کی بحالی کے حوالے سے اہم موضوع بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی اقتصادی ترقی کمزور ہے، جہاں مالی وسائل تک محدود رسائی اور تجارت کی مشکلات کاروبار کے لیے بنیادی رکاوٹیں بنی ہوئی ہیں۔
اس بین الاقوامی ایجنسی کی 2026 کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان کے نجی شعبے میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی بہتری کے لیے نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ اس صلاحیت کو فعال کرنے کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا اور مالی وسائل تک رسائی کو آسان بنانا ضروری ہے۔