امریکی ریٹائرڈ جنرل مکنزی نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلاء میں تاخیر امریکی استکبار کا ایک واضح نمونہ تھا۔
ریٹائرڈ جنرل فرینک مکنزی نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی افغانستان سے انخلاء میں تاخیر امریکی استکبار کا نمونہ تھا۔ انہوں نے افغانستان میں امریکی فوجی سربراہ کی حیثیت سے دفاعی فیصلوں پر افسوس ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ امریکی استبداد کی ایک مثال ہے۔ ہم نے ایک شکست خوردہ جنگ سے عقب نشینی اختیار کی۔
جنرل ریٹائرڈ مکنزی نے مزید کہا کہ ہم نے لوگوں کو نکالنے کے لئے بہت دیر تک انتظار کیا۔ بگرام ایئربیس کو کھونے کے بعد ہماری نفری بہت کم تھی اس حالت میں کئے گئے فیصلے کابل کے میدان جنگ پر موثر ثابت ہوگئے۔
جنرل مکنزی نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مفاہمت پر پشیمان نہیں ہیں کیونکہ اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو زیادہ نقصان ہوسکتا تھا۔