<strong)افغان ایویک تنظیم نے حال ہی میں امریکی دفاعی بجٹ قانون کے مسودے میں شامل شقوں کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ شقیں سابق افغان اتحادیوں کی نقل مکانی کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور ان کی حیثیت کے لیے خطرہ پیدا کر سکتی ہیں...
افغان ایویک تنظیم کے مطابق، 2027 کے قومی دفاعی اختیار قانون کا مسودہ ایسی قواعد و ضوابط پر مشتمل ہے جو قطر اور دیگر غیر محفوظ ممالک سے سابق افغان اتحادیوں کی نقل مکانی کو روک سکتا ہے۔
تنظیم کے سربراہ شان ونڈیور نے بتایا کہ اس منصوبے کا ابتدائی متن ایسے مواد پر مشتمل ہے جو خاص طور پر افغان ہمکاروں کی حالت کی وضاحت کرتا ہے۔ ان شقوں میں ایک ایسی تجویز بھی شامل ہے جو قطری رہائشی مرکز میں موجود افغانوں کی افغانستان یا دیگر خطرناک ممالک میں نقل مکانی کو روک سکتی ہے۔
یہ مرکز اس وقت ایک ہزار سے زائد افغانوں کا مسکن ہے اور موجودہ شیڈول کے مطابق ستمبر 2026 تک اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ، مسودے میں افغان ہمکاروں سے متعلقہ دستاویزات کے تحفظ اور حفاظت کے پروگرام کے قیام پر بھی بات چیت کی گئی ہے، جسے ان کے حقوق کے تحفظ کی طرف ایک مثبت قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، امریکی ایوان نمائندگان نے افغانستان جنگ کمیشن کی مدت میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا ہے تاکہ وہ اپنی حتمی رپورٹ مکمل کر سکے۔ تاہم، ان قواعد کے وقت کے بارے میں خدشات موجود ہیں، کیونکہ قطری رہائشی مرکز ہو سکتا ہے کہ اس قانون کی حتمی منظوری سے پہلے بند ہو جائے، جس سے وہاں رہائش پذیر افراد کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے.