حال ہی میں، پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے ایک افغان ڈاکٹر اور کم از کم دس میڈیکل طلباء کو حراست میں لیا ہے، جس کا ذمہ دار انہوں نے غیر فعال رہائشی ویزوں کو قرار دیا ہے...
ایک نئی اور تشویشناک لہر سامنے آئی ہے جس میں افغان شہریوں اور مہاجرین، خاص طور پر دانشوروں، پیشہ ور افراد اور طبی طلباء کو ہدف بنایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پنجاب پولیس نے ایک مربوط کارروائی کے تحت ایک افغان ڈاکٹر اور کم از کم دس اعلیٰ تعلیم کے طلباء کو حراست میں لیا ہے، جو صوبے کے ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی تربیت حاصل کر رہے تھے۔
تفصیلی رپورٹس کے مطابق، دس افراد جو گرفتار کیے گئے، وہ ممتاز قائداعظم یونیورسٹی اور بہاولپور ایجوکیشنل ہسپتال میں اپنی خصوصی اور عملی تربیت حاصل کر رہے تھے، جب سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔ ساتھ ہی، ڈاکٹر نور اللہ، ایک تجربہ کار افغان ڈاکٹر جو جنوبی پنجاب کے سہیوہال ٹیچنگ ہسپتال میں کام کر رہے تھے، بھی پولیس کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے۔
ان واقعات کی اہم میڈیا کوریج کے باوجود، پاکستان میں سرکاری نمائندوں اور سفارتی اداروں کی جانب سے ان گرفتاریوں کی وجوہات کے بارے میں کوئی وضاحت یا رسمی بیان نہیں دیا گیا ہے۔ تاہم، گرفتار شدہ طلباء کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پولیس کارروائی کا بنیادی سبب ان افراد کے رہائشی ویزوں کی معیاد کا ختم ہونا تھا۔ یہ زنجیر گرفتاری اس تناظر میں ہوئی ہے جہاں پچھلے چند مہینوں میں افغان پناہ گزینوں اور شہریوں کے خلاف زبردستی نکالنے، قانونی کارروائیوں، اور تصادم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کا باعث بنا ہے۔