سہیل شاہین، قطر میں طالبان کے نمائندے نے افغانستان میں اقوام متحدہ کی امدادی مشن (یوناما) کے نئے سربراہ کی تقرری کا خیرمقدم کیا ہے اور کابل اور بین الاقوامی برادری کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تقرری اسلامی امارت کے لیے افغانستان کی اقوام متحدہ کی نشست کی منتقلی میں مددگار ثابت ہوگی۔
سلیمان شاہین، قطر میں طالبان کے سفیر اور اقوام متحدہ میں افغانستان کی نشست کے لیے کابل کی نامزدگی نے رباب فاطمہ کی یوناما کی نئی سربراہ کے طور پر تقرری کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کابل اور عالمی برادری کے درمیان موجودہ غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
شاہین نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امید کی جاتی ہے کہ نئی یوناما کی سربراہ اپنے عہدے کے دوران اسلامی اقدار، ثقافتی سیاق و سباق اور افغان معاشرے کی موجودہ حقیقتوں کو مدنظر رکھیں گی۔ ان کے مطابق، اس بین الاقوامی معتمد خارجہ کا بنیادی مشن یہ ہونا چاہیے کہ وہ بہتر ہم آہنگی کے لیے خوشگوار ماحول پیدا کریں، ملک کے حقیقی حالات کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کریں، اور سفارتی تعلقات میں بہتری کے راستے ہموار کریں۔
طالبان کے سفیر نے اقوام متحدہ میں افغانستان کی مستقل نمائندگی کو اسلامی امارت کے حوالے کرنے کی اہمیت کو دوبارہ دہرایا۔ حالانکہ ملک میں سیاسی تبدیلیوں اور اس عہدے کے لیے شاہین کی نامزدگی کے کئی سال گزر چکے ہیں، مگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اہلیت کمیٹی ابھی تک اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں کرسکی، اور اس کے فیصلے کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں اور سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ایک جامع حکومت کا قیام جو تمام نسلی گروہوں کی نمائندگی کرے، عورتوں اور لڑکیوں کے لئے تعلیم اور روزگار کے حقوق کا تحفظ، اور کابل کی بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل عالمی برادری کی جانب سے طالبان حکومت کو قیامِ قانونی حیثیت دینے اور افغانستان کو باقاعدہ اقوام متحدہ کی نمائندگی فراہم کرنے کے لیے ضروری شرائط ہیں۔