حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : پنج‌شنبه, 10 سپتامبر , 2026 خبر کا مختصر لنک :

پاکستانی حکام کی افغانستان سے خطرات کی نشاندہی، پنجاب میں تشویش بڑھنے لگی

نظامی در پیشانی دروازه سرحد پاکستان با پرچم‌های دو کشور

پاکستانی حکام بشمول رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا سے پنجاب میں عدم تحفظ کی منتقلی کی نشاندہی کی ہے اور افغان دہشت گردوں پر الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ تبصرے ہمسایہ علاقہ جات سے اٹھنے والے سیکیورٹی خطرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آئے ہیں۔


خیبر پختونخوا سے پنجاب میں عدم تحفظ کی منتقلی

پاکستان کے وزیراعظم کے سینئر مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ افغانستان میں تربیت حاصل کرنے والے دہشت گرد خیبر پختونخوا سے پنجاب میں عدم تحفظ منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ گروہ اپنے دہشت گردانہ سرگرمیوں کو اس صوبے میں پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پنجاب میں سیکیورٹی کے خطرات

پاکستانی اہلکار نے وضاحت کی کہ خیبر پختونخوا میں عدم تحفظ کے پس پردہ اصل مجرم افغانی آپریٹرز ہیں جنہوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی اور پھر اپنے آپریشنز کے لیے پاکستان میں داخل ہوئے۔ یہ ان دنوں میں کہا جا رہا ہے جب مریم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب، نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہمسایہ صوبوں سے آنے والے سیکیورٹی خطرات غیر ملکی ممالک، خاص طور پر افغانستان اور بھارت کی نسبت زیادہ اہم ہیں۔

پاکستانی حکام کے بیانات پر ردعمل

مریم نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ملحقہ صوبوں میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے تبصرے نے پاکستان کے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کو جنم دیا، جو سیکیورٹی کی صورتحال پر تنقید کا جواب دے رہی ہیں۔

افغان حکام نے الزامات کی تردید کی

پاکستانی حکام کی جانب سے افغان علاقے کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی سرزمین پر حملوں کی دعووں کے باوجود افغان حکام مسلسل انکار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی میں بہتری آئی ہے۔ یہ مسئلہ، خاص طور پر ملک میں تنازعہ اور دہشت گردی پر قابو پانے کے تناظر میں، خاص توجہ کی ضرورت ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں