رپورٹس نے ظاہر کیا ہے کہ کابل اور دیگر صوبوں میں نامعلوم ڈرونز کی پروازوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کے ذرائع نے اس سرگرمی کی تصدیق کی ہے؛ تاہم، ان پروازوں کی ملکیت اور مقصد کے حوالے سے مخصوص معلومات غیر واضح باقی ہیں۔
کابل اور افغانستان کے دیگر صوبوں کے ایک بڑی تعداد میں رہائشیوں نے حال ہی میں نامعلوم ڈرونز کو فضائی پرواز کرتے دیکھا ہے۔ اس نے عوامی سطح پر خدشات کو جنم دیا ہے۔
طالبان کے قریب بعض ذرائع نے تسلیم کیا ہے کہ ڈرون کابل کے آسمانوں میں گشت کر رہے ہیں، تاہم ان ڈرونز کی ملکیت یا ملک کی اصل کے بارے میں کوئی درست معلومات موجود نہیں ہیں۔
طالبان کے عہدیداروں نے بار بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈرون پاکستانی سرزمین سے افغان فضائی حدود میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ بیانات کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
نامعلوم ڈرونز کی موجودگی کابل کے لیے نئے سیکیورٹی چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان نے اکثر طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ارکان کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ طالبان حکومت نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
حالیہ مہینوں میں، افغانستان کے مختلف علاقوں میں نامعلوم ڈرون پروازوں کے بارے میں متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں، جو خدشات کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ ان ڈرونز کی حیثیت اور ان کے ارادوں کی وضاحت ملک میں سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔