پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد، افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، اور اس بات پر زور دیا کہ کابل کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے امن اور دہشت گردی کی حمایت کے درمیان انتخاب ضروری ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان، طاہر اندراوی، نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران یہ واضح کیا کہ اسلام آباد افغانستان کے ساتھ کسی قسم کا تنازعہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے دہشت گردی کی حمایت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
اندراوی نے دعویٰ کیا کہ طالبان کی تحریک طالبان پاکستان کی حمایت کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے طالبان حکومت سے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے یا اس مسلح گروپ کی حمایت کرنے میں سے ایک کا انتخاب کرے۔
پریس کانفرنس کے دوران، اندراوی نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی کے خلاف کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ہونے والی چوتھی دور کی بات چیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے سرحد کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے پر بات چیت کی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ علاقے میں دہشت گردی کی سرگرمیاں بنیادی طور پر افغان سرزمین سے جنم لیتی ہیں۔ انہوں نے بعض دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے حوالے سے بھارت کا بھی ذکر کیا۔
اندراوی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ دہشت گرد گروپوں کے خاتمے پر جاری بات چیت میں بلوچستان لبریشن آرمی کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا اظہار دونوں ممالک کے مشترکہ بیان میں ہوا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ تعاون ان گروپوں سے آگے بڑھے گا۔