حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 30 مارس , 2026 خبر کا مختصر لنک :

سابق خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی طالبان حکومت کے خلاف کارروائی کی اپیل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سابق خفیہ ایجنسی کے سربراہ جان اچکزئی نے غیر معمولی اور جرات مندانہ بیانات دیئے ہیں، جس میں انہوں نے اسلام آباد سے طالبان حکومت کو ختم کرنے کے لیے باقاعدہ اقدام اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے افغان سفارت خانے کو اپوزیشن گروپوں کے حوالے کرنے اور حکومت مخالف مسلح دھڑوں کے لیے ایک بفر زون کے قیام کی ضرورت پر زور دیا...


کشیدگی میں اضافہ اور اقدام کی اپیل

کابل اور اسلام آباد کے درمیان پائی جانے والی خراب روابط کے پیش نظر، جان اچکزئی، جو ایک متنازعہ سیاسی شخصیت اور سابق خفیہ وزیر ہیں، نے افغانستان کی موجودہ حکومت کے خاتمے کے لیے ایک واضح اور کئی مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ X پر ایک براہ راست پیغام میں اعلان کیا کہ طالبان حکومت کے خاتمے کا وقت آ چکا ہے اور پاکستانی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنی پالیسیوں کو سفارتکاری سے براہ راست تصادم اور طالبان کے خلاف اقدام کی حمایت کی جانب موڑ دے۔

مسلح اور شہری اپوزیشن کی باقاعدہ شناخت

اچکزئی کا منصوبہ افغان سفارت خانے کو اپوزیشن گروپوں کے حوالے کرنے اور پاکستان کے دارالحکومت میں قومی مزاحمت فرنٹ (پنجشیر) اور آزادی فرنٹ کے لیے باقاعدہ دفاتر کھولنے پر مشتمل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے اپوزیشن کو افغانستان کی عبوری حکومت کے طور پر عملی شناخت ملے گی۔ مزید یہ کہ، انہوں نے شہری تحریکوں، خاص طور پر خواتین کے حقوق کے حامیوں، کی حمایت کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ سماجی دباؤ کا ایک وسیع تر منصوبہ بنایا جا سکے۔

بفر زون کا قیام اور شمالی محاذوں کے لیے فضائی امداد

اچکزئی کی تجاویز کا فوجی پہلو ایک 30 کلومیٹر گہرا بفر زون بنانے کا منصوبہ ہے جو دیورنڈ لائن کے ساتھ بنایا جائے گا اور جس کی نگرانی مسلح اپوزیشن گروپ کریں گے۔ انہوں نے یہاں تک کہ طالبان رہنماؤں پر ہدفی حملوں، افغانستان کی فضائی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے، اور شمالی صوبوں بشمول بدخشاں اور پنجشیر میں مسلح مخالفین کو فضائی امداد دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کوئٹہ میں ایک بڑا قندھار دفتر کے قیام کی تجویز

ایک ایسے اقدام میں جو نسلی اور قبائلی حساسیت کو چھیڑ سکتا ہے، اس پاکستانی سیاستدان نے شہر کوئٹہ میں اپوزیشن کے لیے بڑے قندھار کے نام سے ایک سیاسی دفتر قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ تجویز ایک طاقتور سیاسی بنیاد قائم کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے جو افغانستان کے جنوبی سرحدوں کے قریب طالبان کے مضبوط گڑھ قندھار کو چیلنج کرے گی۔ یہ بیانات اس وقت دیئے جا رہے ہیں جب طالبان کے اہلکاروں نے پہلے پاکستان پر اپوزیشن گروپوں کو پناہ دینے اور اُکسانے کا الزام عائد کیا تھا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

زیادہ ملاحظہ کی جانے والی خبریں

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں