افغانستان کے صوبے اروزگان میں متاثرہ خاندانوں نے سابق آسٹریلوی فوجی بن رابرٹس اسمتھ کے فوری ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے، جن کی گرفتاری حال ہی میں عمل میں آئی۔ رابرٹس اسمتھ پر 2009 میں ایک باپ اور بیٹے، محمد عیسیٰ اور احمد اللہ کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان کا عدالت میں پیش ہونے کا وقت 14 جون مقرر کیا گیا ہے۔
دو افغان شہریوں کے خاندان، جنہیں آسٹریلوی اسپیشل فورسز کی کارروائیوں کے دوران بے دردی سے قتل کیا گیا، نے بن رابرٹس اسمتھ کی گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے اور اپنے پیاروں کے معاملے پر فوری اور بلا روک ٹوک کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرین، محمد عیسیٰ اور ان کے بیٹے احمد اللہ، 2009 میں رابرٹس اسمتھ کی کمان کے نیچے سپردِ آتش کردہ غیر قانونی سزاؤں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنے۔
ایک وقت میں وکٹوریہ کراس، آسٹریلیا کا سب سے بڑا فوجی اعزاز حاصل کرنے کے بعد قومی ہیرو سمجھے جانے والے بن رابرٹس اسمتھ کو اب قتل اور جنگی جرائم کے پانچ الزامات کا سامنا ہے۔ ان کی گزشتہ ہفتے کی گرفتاری نے افغانستان میں متاثرہ خاندانوں میں امید کی نئی کرن جگائی ہے۔ اسمت اللہ، جس نے اس سانحے میں اپنے والد اور بھائی دونوں کو کھو دیا، نے میڈیا سے بتایا کہ اگرچہ رابرٹس اسمتھ کی گرفتاری خاندان کے لیے ایک ریلیف ہے، صرف تیز اور منصفانہ ٹرائل ہی ان کی سالوں کی تکالیف کے لیے تسلی فراہم کر سکتا ہے۔
یہ کیس 2020 کی بریکٹون رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا کہ آسٹریلوی اسپیشل فورسز (SAS) نے کم از کم 39 بے مسلح افغان شہریوں اور قیدیوں کا غیر قانونی قتل کیا۔ رپورٹوں میں یہ بتایا گیا کہ فوری سزائے موت اور شہریوں کا قتل بعض کارروائیوں میں ایک منظم پیٹرن کا حصہ تھے۔ اس بین الاقوامی سکینڈل کے جواب میں، آسٹریلوی حکومت نے قابل تلافی فوجیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایک خصوصی تحقیقات کار مقرر کیا ہے۔
آسٹریلوی عدلیہ کی جانب سے شائع کردہ ٹائم لائن کے مطابق، بن رابرٹس اسمتھ کے کیس کے سلسلے میں پہلی سنجیدہ سماعت 14 جون کو ہونے والی ہے۔ عدالتی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ وہ کم از کم دو مزید مہینے حراست میں رہیں گے جب تک مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوتی۔ اسمتھ کا کیس اب افغانستان میں دو دہائیوں کے جنگی جرائم کے حوالے سے غیر ملکی افواج کو جوابدہ ٹھہرانے کی جدوجہد کی علامت بن چکا ہے، جو اکثر خاموشی اور قانونی تحفظ کی آڑ میں انجام دیئے گئے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے کی باریک بینی سے نگرانی کر رہی ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا اروزگان میں بہایا گیا خون اپنے لیے انصاف پا سکے گا۔