هرات کے انجل ضلع میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے کی وجہ سے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 21 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ اندرون و بیرون ملک وسیع پیمانے پر مذمت کا باعث بنا ہے۔ اہم سیاسی شخصیات اور طالبان کے حکام نے اس انسانیت سوز فعل کے مرتکب افراد کی پہچان اور ان کی سزا کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے انسانیت کے خلاف ایک کھلی جرم قرار دیا ہے، جبکہ مقامی شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسی دوران، سابق حکومت میں قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے صدر عبدالله عبدالله نے اس واقعے کو بے رحمی قرار دیا اور ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس وحشیانہ قتل عام میں ملوث افراد کی شناخت و سزا کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔
سابق وزیر خارجہ حنیف اتمر نے اس حملے کو انسانیت کے خلاف ناقابل معافی جرم قرار دیا اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس واقعے کے بہتری سے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی تناظر میں، افغانستان کے نمائندے ناصر احمد فائق نے انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کو بتایا کہ ایسے منظم جرائم کرنے والوں کو انصاف سے نہیں بچنا چاہیے اور انہیں جوابدہ ہونا چاہیے۔
طالبان کے حکام نے بھی اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ ہراد میں طالبان کی اطلاعات اور ثقافت کے شعبے کے سربراہ احمد اللہ مجاہد نے اس جرم کی مذمت کی اور بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے اس واقعے کے ساتھ منسلک ایک مشتبہ شخص کو کامیابی کے ساتھ حراست میں لے لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
اس خوفناک جرم نے ملکی و غیر ملکی ثقافتی شخصیات اور سویلین کارکنوں کی جانب سے شدید رد عمل کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ایسے حملے ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں، اور مذہبی مقامات اور شہری اجتماعات کی حفاظت کے لیے مخصوص سیکیورٹی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔