حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 12 آوریل , 2026 خبر کا مختصر لنک :

مولوی فضل الرحمن کی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر شدید تنقید، احتجاج کا اعلان

جمیعت علمائے اسلام پاکستان کے رہنما مولوی فضل الرحمن نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے، افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کرنے کو بے کار اور پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے بے مثال پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور مردان شہر میں بڑے اجتماع کی اطلاع دی۔


حکومت کی اقتصادی حکمت عملی پر تنقید

مولوی فضل الرحمن نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کے حکومت کے کابل کے ساتھ سلوک کے بارے میں واضح ناپسندیدگی کا اظہار کیا، سرحدوں کی بندش کے ذریعے اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی کو مکمل ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا خیال ہے کہ وہ طالبان پر دباؤ ڈال رہا ہے، حالانکہ افغانستان نے کامیابی کے ساتھ وسطی ایشیا میں متبادل تجارتی راستے تلاش کر لیے ہیں اور اپنی اقتصادی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔

معاشی خودکشی اور تجارتی تنہائی

جمیعت کے رہنما نے زور دیا کہ بھارت اس وقت مشرقی اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تجارت کو ترقی دے رہا ہے، جبکہ پاکستان، اپنی ہی کارروائیوں کے ذریعے، اپنے تجارتی اور گزرگاہوں کو بند کر چکا ہے۔ انہوں نے تنقید کی، “ہم نے اپنی زندگی اور ترقی کے راستے مؤثر طریقے سے بند کر دیے ہیں، جبکہ پڑوسی ممالک نئے جغرافیائی اور اقتصادی حالات کے ساتھ تیزی سے مطابقت اختیار کر رہے ہیں۔”

پیٹرول کی قیمتوں کا دھچکا اور احتجاج کا مطالبہ

فضل الرحمن نے پاکستان کے اندر سخت اقتصادی حالات پر بھی بات کی، جن میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے پر تنقید شامل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی ملک بھر کے تمام اضلاع میں آئندہ جمعہ کو احتجاجی اجتماع منعقد کرے گی، جس کا مقصد حکومت پر حالیہ کرنسی اور قیمت کے فیصلوں کو واپس لینے کے لیے دبائو ڈالنا ہے۔ انہوں نے مزید حکومت سے وضاحت طلب کی کہ وہ ہارموز کی خلیج کے ذریعے گزرنے والے دس بحری جہازوں کے بارے میں اپنے دعووں کے حوالے سے کیا وضاحت فراہم کرے گی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات بتائے۔

12 اپریل کو احتجاجی تحریک کا آغاز

فضل الرحمن کے مطابق، 12 اپریل کو مردان میں ایک بڑا عوامی اجتماع منعقد ہوگا، جو موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ایک قومی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایسے کسی بھی قانون سازی کے خلاف اکٹھا ہونا چاہیے جو آئین کی روح کے خلاف ہو۔ یہ احتجاج اس وقت ابھرتا ہے جب پاکستان کی حکومت، عالمی قیمتوں کی دبائو میں، ڈیزل کی قیمت میں 54.9% اضافہ کر کے 520 روپے اور پٹرول کی قیمت میں 42.7% اضافہ کر کے 458 روپے فی لیٹر کر چکی ہے، جو پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر عدم اطمینان کا سبب بن رہا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

زیادہ ملاحظہ کی جانے والی خبریں

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں