حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 26 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

پاکستان میں سابق افغان سیکیورٹی فورسز کی بھرتی پر تشویش

پاکستان میں 'ڈان نیوز' کے ادارے نے سابق افغان سیکیورٹی فورسز کی ممکنہ بھرتی کو ملکی نجی ملیشا کے ڈھانچوں میں شامل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔


پاکستان میں سیکیورٹی کی آؤٹ سورسنگ پر تشویش

ڈان نیوز نے ایک تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے جو پاکستان میں مقامی گروپوں اور ملیشیا کی تشکیل کے حوالے سے حالیہ مباحثوں پر روشنی ڈالتی ہے اور اس کے ممکنہ خطرناک نتائج کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ مضمون معروف سیکیورٹی ماہر محمد عامر رانا کی تحریر ہے جو نجی مسلح گروپوں کے قیام کے حالیہ تجویز پر موجود خطرات کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس بات کا خدشہ ظاہر کرتا ہے کہ غیر ملکی جنگجو، خاص طور پر سابق افغان سیکیورٹی فورسز کے ارکان، ان گروپوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سابق افغان فورسز کی ممکنہ بھرتی

رپورٹ کے مطابق، بڑھتی ہوئی عدم تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے مقامی مسلح گروپوں کے قیام کی افواہوں کے درمیان، بلوچستان میں سیاسی اور سماجی کارکنوں نے سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ تجویز دی گئی ہے کہ ان فورسز کو مخصوص فوجی اور سیکیورٹی مشنز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو پہلے نجی ٹھیکیداروں یا مسلح گروپوں کے ذریعہ انجام دیے گئے تھے۔

جرائم پیشہ گروپوں کی تعداد میں اضافہ اور عدم اعتماد کی بڑھتی ہوئی صورت حال

سیکیورٹی کے ماہر نے خبردار کیا ہے کہ افغان جنگجوؤں کو موجودہ مسلح ڈھانچوں میں شامل کرنا یا انہیں مقامی فورسز سے تبدیل کرنا پاکستان کی قومی سلامتی پر مہلک اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں نجی ملیشیا اور ‘پیس کمیٹیوں’ کے اقدامات نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عوام اور حکومت کے درمیان بڑے دراڑیں پیدا کیں۔ اس تجربے کو دوہرانے سے مجرمانہ عناصر کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

اسلام آباد سے احتساب اور شفافیت کی ضرورت

تجزیے کے اختتام پر زور دیا گیا ہے کہ چاہے سابق افغان فوجی اہلکاروں کی موجودگی اور بھرتی کے بارے میں تشویش عوامی فکر ہو یا صرف افواہیں، پاکستانی حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو ان خدشات کے حل کے لیے واضح اور شفاف موقف اختیار کرنا چاہیے۔ شفافیت کی کمی عوامی اداروں پر عدم اعتماد کو بڑھا سکتی ہے اور سرحدی علاقوں میں تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں