پاکستان کے معروف اخبار ڈان نے ملک میں سابق افغان سیکیورٹی فورسز کی بھرتی اور استعمال کے ممکنہ خطرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے...
ڈان نیوز نے حالیہ تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں پاکستان میں مقامی گروپوں اور ملیشیا کی تشکیل کے حوا لے سے ہونے والی بحثوں پر نظر ڈالی گئی ہے اور ان کے خطرناک مضمرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ معروف سیکیورٹی ماہر محمد عامر رانا کی طرف سے لکھی گئی ہے، جس میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ نجی مسلح گروپوں کے قیام کی تجویز کے ساتھ، یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ غیر ملکی جنگجو، خاص طور پر افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے سابق ارکان، ان گروپوں میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بڑھتی ہوئی بے یقینی اور دہشت گردی سے لڑنے کے لیے مقامی مسلح گروپوں کے قیام کے خدشات کے درمیان، بلوچستان میں سیاسی اور شہری سرگرم کارکنوں نے سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی کے حوالے سے یقین دہانیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ان فورسز کو ایسے مخصوص فوجی اور سیکیورٹی مشنز کے لیے بھرتی کیا جا سکتا ہے جیسے کہ پہلے نجی کمپنیاں یا مسلح گروپ انجام دیتے تھے۔
سیکیورٹی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ افغان جنگجوؤں کو موجودہ مسلح ڈھانچوں میں شامل کرنے یا انہیں مقامی فورسز سے تبدیل کرنے کے نتیجے میں پاکستان کی قومی سیکیورٹی کے لیے مہلک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ ملیشیا اور امن کمیٹیوں کی ماضی کی سرگرمیاں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عوام اور حکومت کے مابین شدید فاصلوں اور عدم اعتماد کا باعث بنی ہیں۔ اس تجربے کو دہرانے سے مجرم عناصر کو مزید قوت مل سکتی ہے۔
تجزیے کے اختتام پر یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ چاہے سابق افغان فوجی اہلکاروں کی موجودگی اور بھرتی کے بارے میں بحث محض عوامی تشویش یا قیاس آرائی ہو، حکومت اور پاکستان کی سیکیورٹی اداروں کو ان خدشات کے حوالے سے واضح اور شفاف موقف اختیار کرنا چاہیے۔ اس مسئلے پر عدم وضاحت عوام میں حکومت کے اداروں کے خلاف عدم اعتماد کو بڑھا سکتی ہے اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے۔