حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 8 آگوست , 2021 خبر کا مختصر لنک :

کرزئی: امریکہ نے طالبان کو جنگ جاری رکھنے پر مجبور کیا

سابق افغانستانی صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں عدم استحکام، ناامنی اور جنگ کے لیے امریکہ کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔


انہوں نے کہا: طالبان بھی اس ملک کے باشندے ہیں۔ جب وہ اقتدار میں تھے، لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی، اور انکی جانب سے بیرونی ممالک کو افغانستان میں نافذ ہونے کی اجازت دینے پر میرا ان سے اختلاف تھا۔

انہوں نے مزید کہا: تاہم، جب میری حکومت اور جمہوری اقتدار آیا، میں نے انہیں معاف کر دیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے اور پرامن طریقے سے زندگی گزارنے لگے۔

کرزئی نے کہا: پھر اچانک امریکہ اور کچھ مقامی عناصر نے طالبان کے گھروں اور ان کے علاقوں پر حملے شروع کر دیے اور طالبان کو ملک بدری پر مجبور کر دیا۔

اس بات کی صراحت کرتے ہوئے کہ امریکہ نے طالبان کو جنگ جاری رکھنے پر مجبور کیا ہے، سابق افغانستانی صدر نے مزید کہا: یہ جنگ طالبان سے لڑنے کے نام پر افغانستانی عوام کے خلاف تشدد تھا، جس کی وجہ سے میں طالبان کو اپنا بھائی کہتا تھا، کیونکہ وہ بھی ہمارے ہی ہم وطن ہیں۔

افغانستان میں ناامنی کے پھیلاؤ کے بارے میں خطے کے دیگر ممالک کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے بعد اور ایک ایسی مرکزی حکومت کی تشکیل کے بعد جو ملک کے تمام علاقوں پر حکومت کرے گی، یہ خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

کرزئی کا خیال ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے ساتھ ہی، پیشرفت کا واحد راستہ یہی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں، لیکن ان کی دہشت گردانہ سرگرمیاں بھلائی نہیں جاسکتی ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں