ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ طالبان کے ملک پر تسلط کے بعد سے افغانستان میں تشدد کی شکار خواتین کے لیے ضروری خدمات ختم ہو گئی ہیں۔
۲۶ خواتین اور افغانستان میں تشدد کی شکار خواتین کو خدمات فراہم کرنے والوں نے لندن میں قائم اس تنظیم کو بتایا ہے کہ: طالبان نے سیف ہاؤسز بند کر دیے ہیں اور خواتین پر تشدد کے مرتکب افراد کو رہا کر دیا ہے۔
اسی اثناء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ جنسی تشدد سے بچ جانے والی خواتین اور لڑکیوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے اور ان کی حمایت کرنے والے نیٹ ورک کو ختم کر دیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ جب سے طالبان نے افغانستان کا اقتدار سنبھالا ہے، اس ملک میں سیف ہاؤس بند کر دیے گئے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت سے پہلے گھریلو تشدد کی شکار خواتین کے لیے سیف ہاؤسز اور خدمات کا ایک نیٹ ورک موجود تھا۔