متحدہ عرب امارات میں دو دہائیوں سے مقیم افغان مزدوروں میں سے سینکڑوں کو گرفتار کر کے بے دخل کر دیا گیا ہے، انہیں اپنے اثاثوں، بینک اکاؤنٹس یا شناختی دستاویزات تک رسائی نہیں دی گئی…
ذرائع ابلاغ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے افغان اور پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کی ایک اچانک اور وسیع لہر شروع کی ہے۔ نیو لائنز میگزین جیسے ذرائع کے مطابق، کم از کم 15,000 پاکستانی شہری اور سینکڑوں افغان مزدور، جن میں سے بہت سے تقریباً دو دہائیوں سے ملک میں مقیم ہیں، انہیں بغیر کسی اثاثے، بینک اکاؤنٹس، یا شناختی دستاویزات کے گرفتار کیا گیا ہے۔
غیر متوقع گرفتاری: کئی افراد کو اپنے دستاویزات کی تجدید کے دوران یا کام کے اوقات میں گرفتار کیا گیا، حالانکہ ان میں سے بعض کے پاس درست ورک ویزا بھی تھے۔
مذہبی اور سیاسی وجوہات: بے دخل کیے گئے افراد کا دعویٰ ہے کہ انہیں متحدہ عرب امارات کی سیکیورٹی فورسز نے ان کے مذہبی عقائد یا علاقائی ترقیات پر سوشل میڈیا پر کیے گئے بیانات کی وجہ سے نشانہ بنایا۔
انسانی حقوق کی پامالیاں: یہ کارروائی قانونی وضاحت کے بغیر، قانونی مشیر کے حق کے بغیر، یا ان کے ملازمین کے ساتھ معاملات طے کرنے کا کوئی موقع فراہم کیے بغیر کی گئی، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اب تک، متحدہ عرب امارات کے حکام ان بڑے پیمانے پر بے دخلیوں پر خاموش ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام علاقائی سیکیورٹی پالیسیوں اور سفارتی کشیدگی میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔