برخه -څانګه : تصاویر -+

د خپرولو وخت : سه‌شنبه, 28 جولای , 2026 لنډ لینک :

بدخشاں میں طالبان کی دوہری حکمت عملی: کاشتکاروں کی زمینوں پر قبضہ، عوامی بغاوت کا آغاز

مختلف صوبوں سے موصولہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان منشیات کی پیداوار کے خلاف اپنی لڑائی میں امتیازی اور دوہری حکمت عملی اپناتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق جنوبی علاقوں جیسے کہ قندھار اور ہیلمند میں، طالبان مقامی لوگوں کو اپیوم کی کاشت کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ بدخشاں میں 1,300 سے زائد جنگجو تعینات کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں کاشتکاروں کی زمینیں ویران ہو گئی ہیں…

بدخشاں میں تشدد میں اضافہ

بدخشاں کے ارگو ضلع میں تنازعہ نے خونریز جھڑپوں کو جنم دیا ہے، جس میں طالبان فورسز کی براہ راست فائرنگ سے کم از کم دو کسان ہلاک ہوئے ہیں۔ اس تشدد نے عوامی بغاوت کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے، جیسا کہ غم و غصے سے بھرے مظاہرین نے طالبان کے فوجی مراکز کو آگ لگا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان، جو اپنے جنوبی نسلی بنیادی کے حمایت کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، شمال مشرقی علاقوں میں صرف آہنی کنٹرول کی پالیسی اپناتے ہیں۔ یہ امتیازی رویہ نہ صرف منشیات کی پیداوار کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہے بلکہ یہ تناؤ کو بڑھانے اور شمالی افغانستان میں عوامی عدم اطمینان کو پھیلانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں