پاکستان کے مختلف صوبوں سے موصولہ رپورٹیں طالبان کی منشیات کے خلاف لڑائی میں امتیازی اور دوہرے رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔ تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان نے خاص طور پر قندھار اور ہلمند میں اپنے روایتی گڑھوں میں رہائشیوں کو ذاتی دیہات میں افیون کی کاشت جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے، جبکہ ان کے نگراںوں کی نگاہوں سے دور یہ کام ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس، صوبہ بدخشان میں 1,300 سے زائد طالبان جنگجو تعینات کیے گئے ہیں، جہاں انہوں نے کسانوں کے کھیتوں کو تشدد کے ساتھ تباہ کر دیا ہے…
بدخشان کے آرگو ضلع میں تشدد کی شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں طالبان فورسز کی فائرنگ سے کم از کم دو کسانوں کی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔ اس ظالمانہ کارروائی نے ایک عوامی بغاوت کو جنم دیا ہے، جہاں مشتعل مظاہرین نے طالبان کی فوجی تنصیبات کو نذر آتش کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان شمال مشرقی علاقوں میں سخت کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ اپنے جنوبی نسلی حامیوں کو خوش کر سکیں۔ یہ جانبدارانہ رویہ نہ صرف منشیات کی کاشت کو ختم کرنے میں ناکام ہے بلکہ نسلی تناؤ کو بھی بڑھانے کا خطرہ رکھتا ہے، جو ملک کے شمالی صوبوں میں بے چینی کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔