کینیڈا ان افراد کو پناہ دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو افغانستان پر قبضے کے دوران مترجم اور صحافی کی حیثیت سے مشغول تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغانستان میں امریکی اور نیٹو کی دو دہایئوں کی موجودگی کے دوران سفارتخانوں میں صحافت اور ترجمے کے مختلف شعبوں میں فرائض انجام دینے والے سیکڑوں افراد کو پناہ دینے پر کینیڈا کی حکومت غور کر رہی ہے۔
اس خبر کے مطابق ایک افغانستانی سرکاری عہدیدار جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اظہار خیال کیا اور کہا: ایسے افغانستانی جو ملک پر امریکی قبضے کے دوران مترجم اور صحافی کی حیثیت سے کام کرتے رہے تھے، اپنی جانوں کے ممکنہ خطرے کی وجہ سے وہ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ کینیڈا اب امریکہ کے بعد دوسرا ملک ہوگا جو ایسے افراد کو ویزا جاری کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اس سے قبل، طالبان نے یہ اعلان کیا تھا کہ انخلا کی ڈیڈلاین کے بعد ان تمام افراد کو سزا دی جانی چاہئے جو افغانستان میں غیر ملکی افواج کے ساتھ مل کر نشریات اور ترجمے میں ملوث تھے۔
امریکہ بارہا بیان دے چکا ہے کہ وہ افغانستان سے کامل انخلا سے پہلے ایسے افراد کو ویزا دینے پر غور کررہا ہے۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے کہ جس پر آج تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ کینیڈا کے حکام نے اب یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بھی ان افراد کو اپنے ملک منتقل ہونے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن خبر رساں ذرائع کے مطابق امریکہ اور کینیڈا کی جانب سے اس اقدام کے لئے کسی خاص ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
افغان مترجمین، صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو مہاجرتی ویزا جاری نہ کرنے پر ہیومن رائٹس واچ نے امریکی اور کینیڈا کے عہدیداروں کے اقدامات کی تنقید کی اور اس عمل کو سرعت دینے کا مطالبہ کیا۔
کچھ افغانستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ افغانستانی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی کی مدد کی خاطر سفارت خانوں میں اور مترجم کی حیثیت سے کام کرنے والوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج خصوصا امریکیوں کے انخلا سے اور طالبان کے دوبارہ وجود میں آنے سے داخلی تنازعات کا امکان دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔