حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 28 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

سیاسی رہنما ہماری افواج کی حمایت اور دفاع کے لئے اقدام کریں: سابق افغانستانی وزیر خارجہ کی تاکید

افغانستان کے سابق وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر نے ملک میں موجودہ خانہ جنگی کے خلاف سکیورٹی فورسز کے دفاع کے لئے سیاسی رہنماؤں کو متحرک ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔


افغانستان کے سابق وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر، رنگین دادفر سپنتا نے افغانستانی سیاست دانوں کو افواج کی حمایت اور دفاع کے لئے متحرک ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی واقع ہوگی۔

سابق افغانستانی عہدیدار نے یہ اظہار ایک تقریب میں کیا جو اسپیشل فورسز کے کمانڈر سہراب عظیمی کی شان میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔

دریں اثنا، کچھ سابق افغانستانی فوجیوں نے جنگ میں جانی نقصانات کا الزام “سیکیورٹی اداروں کی ناکام قیادت ” اور “جنگ کی نا مناسب منصوبہ بندی” کے سر ٹہرایا ہے۔

سابق فوجی اور سہراب عظیمی کے والد ظاہر عظیمی نے اس موقع پر کہا: فورسز کی تعیناتی سے ہی نا کافی انتظام واضح ہوتا ہے۔ آپ فوج تو بھیجتے ہیں، لیکن زمینی یا ہوا کے ذریعے ان کی مدد نہیں بھیجتے۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔”

سابق فوجی سربراہ محمد رادمنیش نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: تعیناتی کے بعد زمینی اور ہوا کے ذریعے حمایت کا فقدان ہماری کمزوری ہے۔

لیکن دادفر سپنتا نے اپنی تقریر میں موجودہ صورتحال کا حل افغانستانی سیاستدانوں کے مابین تعاون اور اتحاد سمجھا اور کہا: وقت آگیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے نزدیک ہوجائیں، اپنے شہدا کے خون کی حفاظت کریں، اور دشمن کے ناپاک ارادوں کو واقعیت میں تبدیل ہونے سے روکیں۔

وزارت دفاع کے نائب ترجمان، فواد امان نے اس موقع پر کہا: جتنا جنگ کی شدت میں اضافہ ہوگا، اور ہماری فوج کو مزید تعینات کیا جائے گا، اتنا ہی زیادہ نقصان ہوگا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں