اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نمائندے اوتونبایوا نے افغانستان میں خواتین بیوٹی پارلر سینٹر کی بندش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے کو عقب ماندگی کی علامت قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے اس فیصلے سے اس شعبے سے وابستہ خواتین پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ فیصلہ اقتصادی ترقی سے عقب نشینی ہے جس سے غربت مزید بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ بیوٹی پارلر پر پابندی مقامی رہنماؤں سے کئے گئے وعدے کی خلاف ورزی ہے۔
افغانستان میں بیوٹی پارلر بند ہونے کے نتیجے میں 60 ہزار خواتین روزگار سے محروم ہو جائیں گی اور 12 ہزار سے زائد تزئین و آرائش کے کام معطل ہوں گے۔
اقوام متحدہ نے بھی طالبان کے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد افغان خواتین میں بیروزگاری بڑھے گی۔