حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : شنبه, 20 ژوئن , 2026 خبر کا مختصر لنک :

ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان میں چھوڑے گئے فوجی سامان کی واپسی پر تبصرہ

سربازان بر روی وسایل نقلیه نظامی آمریکایی در جاده خالی

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد باقی رہ جانے والے فوجی ساز و سامان کی واپسی کے امکانات پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے جو بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں پر تنقید کی، زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی علامتی اہمیت کے باوجود، اس کے سنگین نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں...


افغانستان میں باقی ماندہ فوجی سامان پر ٹرمپ کے تبصرے

ڈونلڈ ٹرمپ نے جی 7 سمٹ کے دوران ایک پریس ملاقات میں افغانستان میں باقی رہ جانے والے فوجی ساز و سامان کے مسئلے پر گفتگو کی۔ انہوں نے امریکی افواج کے انخلا کے عمل پر بھی تنقید کی، یہ کہتے ہوئے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان سے تمام فوجی سامان واپس لا سکتا تھا، لیکن اسے چھوڑ دیا گیا۔

کیا فوجی ساز و سامان واپس لایا جائے گا؟

اس پس منظر میں، ٹرمپ نے کہا، “ہم شاید اس تمام سامان کو واپس لے آ سکتے ہیں۔ اگرچہ اس وقت یہ اپنی عمر کی وجہ سے علامتی اہمیت رکھتا ہے، پھر بھی اسے واپس لانے کا امکان موجود ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ امریکی افواج کے انخلا کے ذمہ دار ہوتے، تو یہ عمل عزت و وقار کے ساتھ انجام دیا جاتا، جس کے ساتھ فوجی سامان کی مکمل منتقلی بھی ہوتی۔

باقی ماندہ سامان کی مقدار اور طالبان کا کنٹرول

امریکہ کے محکمہ دفاع کے تخمینوں کے مطابق، امریکی افواج کے اگست 2021 میں نکلنے کے بعد افغانستان میں سات ارب ڈالر سے زائد کا فوجی سامان چھوڑا گیا۔ ٹرمپ نے نشاندہی کی کہ اس سامان کا بڑا حصہ طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا جب پچھلی افغان حکومت کا زوال ہوا۔ بائیڈن انتظامیہ نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ یہ سامان سابق افغان سیکیورٹی فورسز کے پاس تھا اور طالبان نے حکومت کے زوال کے بعد اسے قبضے میں لے لیا تھا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں