حال ہی میں قندھار میں ایک تقریب میں، طالبان کے رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اعلان کیا کہ گروپ کسی بھی غیر قانونی درخواست کو قبول نہیں کرے گا۔ اسی دوران، اقوام متحدہ نے رپورٹ کیا کہ 24 لاکھ لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔
قندھار ایئرپورٹ پر طالبان کی حکومت کی پانچویں برسی کے موقع پر ایک تقریر کے دوران، ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کسی بھی غیر قانونی درخواست کو سنجیدگی سے نہیں لے گی۔ اپنے بیانات میں، انہوں نے انسانی حقوق کے اداروں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا، “ہم ان لوگوں کی باتوں پر کان نہیں دھرتے جو جاہل ہوں اور غیر قانونی مطالبات کرتے ہوں۔”
طالبان کی حکومت کی پانچویں سالگرہ قریب آ رہی ہے، اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ یہ محرومیاں افغانستان کی ترقی کے لئے ایک اہم رکاوٹ سمجھی جا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک مشترکہ بیان میں بتایا گیا کہ افغانستان واحد ملک ہے جس نے خواتین کے خلاف دباؤ دینا والے قوانین نافذ کیے ہیں۔ یہ بیان طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کی زندگی پر عائد کی جانے والی سخت پابندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
افغانستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ہیتھر بار، ہیومن رائٹس واچ کی خواتین کے حقوق کی ڈویژن کی نائب ڈائریکٹر، نے اس صورتحال کو دنیا کی شدید ترین خواتین کے حقوق کی بحران قرار دیا ہے۔
ریچڑڈ بینٹ، اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر برائے انسانی حقوق، نے خبردار کیا کہ عالمی برادری کو طالبان کے ساتھ کسی بھی رابطے میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو ترجیح دینا چاہیے۔ انہوں نے انسانی حقوق میں ٹھوس بہتری کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کے خطرات پر زور دیا۔