حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : سه‌شنبه, 28 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

وزیر اعظم شہباز شریف کی سرحدی باڑ لگانے کی پالیسی کا دفاع

وزیر اعظم پاکستان، شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں اپنے بجٹ کے مجوزہ منصوبے کی دفاع کرتے ہوئے بھارتی لائن کے گرد باڑ لگانے کی پالیسی کے حوالے سے ہونے والی بحثوں کا جواب دیا، جسے انہوں نے قومی سلامتی اور مقامی رہائشیوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔ یہ باتیں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کی تنقید کے جواب میں کہیں، جس نے سرحدی علاقوں میں تاریخی اور شناختی مباحث کو جنم دیا۔


شہباز شریف کی سرحدی باڑ لگانے کی پالیسی کا دفاع

سرکاری تحفظاتی پالیسیوں کی دفاع میں، شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد مستقل خطرہ بنتی جا رہی ہے، جس کے لیے باڑ لگانے اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ بیانات اچکزئی کی سخت تنقیدوں کے جواب میں سامنے آئے، جنہوں نے پاکستان کی پالیسیوں کو پشتون کمیونٹی کی تاریخی اور شناختی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔

اچکزئی کی تنقید پر ردعمل

اچکزئی کے تبصرے نے پشتون علاقوں کی حساسیت کو اجاگر کیا اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ثقافتی اور سماجی مسائل کو حفاظتی خدشات کے ساتھ مد نظر رکھا جائے۔ انہوں نے اسلام آباد کے دوراند لائن کے حوالے سے طرز عمل پر تنقید کی اور ایک جامع حکمت عملی کی وکالت کی جو علاقے کی آبادی کی شناختی پہلوؤں کو مدنظر رکھے۔

رہائشیوں کی حفاظت کی ضرورت

تنقیدوں کے جواب میں، شہباز شریف نے تمام رہائشیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت کا ذکر کیا، اور کہا کہ ملک کی سرحدوں پر کیے جانے والے اقدامات سیکیورٹی کے خطرات سے بچنے کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ باڑ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر مبنی ہے اور غیر قانونی عبور و در آمد کے کنٹرول کے لیے ہے۔

شہباز نے یہ بھی بتایا کہ اگر اس منصوبے پر خرچ ہونے والے اربوں روپے بھی ایک بچے کی زندگی بچاتے ہیں تو یہ بالکل معقول اور جائز ہیں۔ ان کے مطابق، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ملک کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بھاری قیمت چکائی ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں