پاکستان کے نمائندے نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی طرف سے لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے، عاصم افتخار احمد نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کے استعمال کے بارے میں آگاہ کیا۔ ایک سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران، انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ دہشت گردی سے پیدا ہونے والے خطرات خاص طور پر افغانستان میں ابھی بھی موجود ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی کوششوں کی وجہ سے کچھ دہشت گرد گروپوں کی صلاحیتوں میں کمی آئی ہے، لیکن ان کی سرگرمیاں اور خطرات افغانستان میں جاری ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر داعش خیراسان جیسی تنظیموں کا ذکر کیا، جو نمایاں تبدیلیوں کے باوجود علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے دوہرایا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے لیے وسیع بین الاقوامی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کی سرگرمیاں روکی جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمسایہ ممالک اور دیگر علاقوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ یہ تشویشیں واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ علاقے میں سلامتی کے چیلنجز کیا ہیں۔
اسلام آباد کی حکومت کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر گروپ افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہیں تاکہ پاکستان پر حملے کریں۔ اس کے جواب میں طالبان کے عہدیداروں نے ان الزامات کی تردید کی ہے، اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے۔ ماضی میں، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی حکام کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی سیکیورٹی ناکامیوں کا الزام افغانستان پر نہ لگائیں۔