وزارت پناہ گزینوں اور وطن واپسی نے 1,099 افغان مہاجرین کی واپسی کی اطلاع دی ہے جو پاکستان کی جیلوں اور حراستی مراکز سے رہا ہوئے تھے۔ یہ افراد ابتدائی امداد حاصل کرنے کے بعد طورخم اور سپین بولدک کے ذریعے ملک میں داخل ہوئے۔
وزارت پناہ گزینوں اور وطن واپسی کی حالیہ اعلامیات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان سے افغان حراستی افراد کی وطن واپسی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران، 1,099 افغان مہاجرین اپنے وطن واپس آئے ہیں، جنہیں ہمسایہ ملک کے حراستی مراکز سے رہا کیا گیا، مختلف سرحدی راستوں کے ذریعے افغانستان میں داخل ہوئے۔
وزارت کے رپورٹس کے مطابق، یہ شہری دو اہم گزرگاہوں: طورخم اور سپین بولدک کے ذریعے واپس آئے۔ خاص طور پر، 896 افراد نے ننگرہار صوبے کے طورخم سے اور 203 افراد نے قندھار صوبے کے سپین بولدک سے داخل ہوئے۔
وزارت کے اہلکاروں نے زور دیا کہ تمام واپس آنے والوں کی شناخت اور بایومیٹرک ڈیٹا کی مکمل ریکارڈنگ کی گئی، اس کے بعد انہیں انسانی امداد اور ابتدائی مدد فراہم کی گئی۔ سرحد پر ابتدائی چیکنگ کے بعد، ان کے آبائی علاقوں کی جانب محفوظ نقل و حمل کے انتظامات کیے گئے۔
حالیہ مہینوں میں، پاکستان میں افغان مہاجرین کی حراست اور ملک بدری کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ متعدد رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بہت سے مہاجرین سخت سلوک، من مانی حراستوں، اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کا شکار ہیں۔