افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے یہ بات واضح کی ہے کہ طالبان دوحہ معاہدے کے تحت دہشت گردی کے خلاف عزم کے سلسلے میں پابند ہیں اور پچھلے پانچ سالوں میں افغان سرزمین سے امریکہ پر کسی بھی قسم کے حملے کی اجازت نہیں دی۔
زلمے خلیل زاد نے بیان دیا کہ طالبان نے دوحہ معاہدے کی شرائط پر عمل کیا ہے جس کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام ہے، اور یہ یقینی بنایا ہے کہ کوئی بھی مخالف گروہ، بشمول القاعدہ، امریکہ کے خلاف افغانستان سے کارروائی نہیں کر رہا۔
الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں خلیل زاد نے کہا کہ اگرچہ وہ اب امریکی انتظامیہ کا حصہ نہیں ہیں، لیکن انہیں افغان امور کی نگرانی کرنے والے لوگوں سے رپورٹس ملی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ طالبان نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ کچھ اندازوں نے امریکی فوج کے انخلاف کے بعد ممکنہ حملوں کی پیش گوئی کی تھی، لیکن ایسے واقعات کبھی پیش نہیں آئے۔
سابق نمائندے نے باغیوں کو افغانستان کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ قرار دیا اور انکشاف کیا کہ طالبان ان گروہوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں اور انہیں براہ راست ہدف بناتے ہیں۔
خلیل زاد نے طالبان کی عورتوں اور لڑکیوں پر لگائی گئی پابندیوں کا بھی ذکر کیا اور چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو افغانستان کے مستقبل کے لیے ”خوفناک“ قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ پابندیاں طالبان کے مخالفین کو مضبوط کرتی ہیں اور انہیں اٹھانا ضروری ہے۔ خلیل زاد نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ملک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو سپورٹ نہیں کر سکتا اور طالبان سے درخواست کی کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر دوبارہ غور کریں۔