حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : چهارشنبه, 19 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

کابل کے شمسِ ہدایت سکول میں دھماکا، 50 طلبہ زخمی

مردی با دستار سبز و شال خط‌دار در حال نشستن

محمد محقق نے کابل کے مغربی علاقے میں شمسِ ہدایت سکول میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 50 طلبہ زخمی ہوئے۔


شمسِ ہدایت سکول دھماکے کی ذمہ داری طالبان پر عائد

اسلامی اتحاد پارٹی کے رہنما محمد محقق نے کابل کے نجی شمسِ ہدایت سکول میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری طالبان پر ڈالی ہے۔ یہ دھماکا پیر، 26 اگست کو سکول کی حدود میں ہوا، جس میں تقریباً 50 طلبہ زخمی ہوئے۔

تقریباً 50 طلبہ مغربی کابل کے سکول دھماکے میں زخمی

مقامی ذرائع کے مطابق، دو افراد موٹر سائیکل پر سکول کے احاطے میں دو دستی بم پھینکے۔ اس معلومات کی ابھی تک آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن واقعہ کے ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

محقق: طالبان کو شہریوں کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے

دھماکے کے جواب میں محقق نے کہا کہ طالبان بطور حکومتی گروہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اس واقعہ کو اس کے مرتکب افراد کی بے رحمی اور بربریت کی علامت قرار دیا۔

شمسِ ہدایت سکول دھماکے: مرتکب افراد کی ظالمی کا نشان

یہ دھماکا شام 4:30 بجے کے قریب ہوا، اور محقق نے طالبان کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے کنٹرول والے علاقوں میں لوگوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری کو بڑھاتی ہے۔

نجی سکول میں دھماکا: افغانستان میں جاری عدم تحفظ کا حصہ

اگرچہ طالبان نے دھماکے کے وقوع کی تصدیق کی ہے، لیکن انہوں نے واقعے یا اس کے ذمہ داروں کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ یہ واقعہ افغانستان میں سیکیورٹی کے چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے، جو شہریوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں