محمد محقق نے کابل کے مغربی علاقے میں شمسِ ہدایت سکول میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 50 طلبہ زخمی ہوئے۔
اسلامی اتحاد پارٹی کے رہنما محمد محقق نے کابل کے نجی شمسِ ہدایت سکول میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری طالبان پر ڈالی ہے۔ یہ دھماکا پیر، 26 اگست کو سکول کی حدود میں ہوا، جس میں تقریباً 50 طلبہ زخمی ہوئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، دو افراد موٹر سائیکل پر سکول کے احاطے میں دو دستی بم پھینکے۔ اس معلومات کی ابھی تک آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن واقعہ کے ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
دھماکے کے جواب میں محقق نے کہا کہ طالبان بطور حکومتی گروہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اس واقعہ کو اس کے مرتکب افراد کی بے رحمی اور بربریت کی علامت قرار دیا۔
یہ دھماکا شام 4:30 بجے کے قریب ہوا، اور محقق نے طالبان کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے کنٹرول والے علاقوں میں لوگوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری کو بڑھاتی ہے۔
اگرچہ طالبان نے دھماکے کے وقوع کی تصدیق کی ہے، لیکن انہوں نے واقعے یا اس کے ذمہ داروں کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ یہ واقعہ افغانستان میں سیکیورٹی کے چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے، جو شہریوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔