حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : شنبه, 18 جولای , 2026 خبر کا مختصر لنک :

بدخشاں: طالبان کے زیر کنٹرول ضلع یفتال پین پر مسلح حملے کا واقعہ

نقشه ولایت بدخشان په رنگ سرخ

بدخشاں صوبے میں طالبان کے حکام نے یفتال پین ضلع کے مرکز پر ایک مسلح گروہ کے حملے کی اطلاع دی ہے، جو کہ متعدد گھنٹوں تک علاقے میں طالبان کنٹرول کو متاثر کرنے کا باعث بنا۔ اس پیش رفت نے طالبان حکام اور ماہرین کی جانب سے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں مختلف تجزیوں کو جنم دیا ہے۔


طالبان: حملہ آوروں کو پسپا کیا گیا

محلی طالبان حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کی رات، مسلح حملہ آوروں کے ایک گروہ نے یفتال پین میں پولیس ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ طالبان حکام کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کئی گھنٹوں کی جھڑپ کے بعد صورتحال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

ذرائع: ضلع کا مرکز کئی گھنٹوں تک مسلح کنٹرول میں رہا

طالبان حکومت کے ایک ذرائع نے، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، تصدیق کی کہ حملہ آوروں نے یفتال پین ضلع کے مرکز پر چند گھنٹوں کے لیے کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ مقامی ذرائع نے بھی یہ اشارہ دیا کہ حملہ آور کچھ ہتھیار اور ساز و سامان، جو طالبان فورسز کا تھا، اپنے ساتھ لے گئے۔

مسلح موجودگی کی تصاویر گردش میں

اس واقعے کے بعد، سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر منظر عام پر آئی ہیں جن میں یفتال پین ضلع کی مارکیٹ میں مسلح افراد دکھائے گئے ہیں۔ ان تصویروں میں کئی گاڑیاں اور طالبان سے منسلک ساز و سامان بھی شامل ہے۔ تاہم، ابھی تک کسی آزاد ذرائع نے ان تصاویر اور ویڈیوز کی حقیقت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

طالبان کے ذرائع: حملہ آوروں کی گرفتاری اور ہلاکتیں

طالبان کے ذرائع نے بتایا کہ اس کاروائی کے دوران کئی مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا، جبکہ کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ان ذرائع کے مطابق، اس حملے سے منسلک دیگر افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ حملہ آوروں کی شناخت سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی، لیکن کچھ میڈیا ادارے اور کارکنان نے اس گروہ کو قومی کمانڈوز کا محاذ قرار دیا ہے۔

ایک اعلیٰ طالبان اہلکار کا بدخشاں کا دورہ

اس حملے کے بعد، طالبان کے چیف آف اسٹاف، فصیح الدین فطرت بدخشاں پہنچے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مسلح گروہوں کی طالبان فورسز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور وہ صرف مختلف ناموں کے تحت خود کو دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔

ماہرین: یفتال پین واقعہ ایک سیکیورٹی انتباہ

یہ واقعہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ تقریباً پانچ سال میں پہلی بار ہے کہ ایک مسلح گروہ نے عارضی طور پر ایک ضلع کے مرکز پر کنٹرول حاصل کیا۔ فوجی تجزیہ کار محمد نعیم غیور کے مطابق، حالیہ واقعات طالبان کی حکومت کے آخری سالوں میں استعمال ہونے والی عسکری حکمت عملی سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے بھی اپنے اقدامات چھوٹے آپریشنز سے شروع کیے اور بتدریج اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ سیاسی و فوجی ماہر اجمل عمر شنوار، موجودہ حالات کو افغانستان میں گوریلا جنگ کی ترویج کے لیے زرخیز زمین قرار دیتے ہیں، اور وہ داخلی تقسیم، بدعنوانی، اور طالبان کے کچھ حصوں میں بے چینی کو ایسے تحاریک کے اہم عوامل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

افغانستان کی سیکیورٹی کی حیثیت پر نئے سوالات

طالبان نے ہمیشہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ افغانستان بھر میں جامع سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں، لیکن یفتال پین ضلع کے مرکز پر حملہ ایک بار پھر ملک کی سیکیورٹی کی حیثیت کو اہمیت میں لے آیا ہے۔ جبکہ طالبان اس حملے کو قابو میں سمجھتے ہیں، اپوزیشن گروہوں نے حالیہ برسوں میں طالبان فورسز کے خلاف مسلح حملوں کی ذمہ داری بار بار قبول کی ہے، جو افغانستان کی سیکیورٹی کے استحکام پر بحث کو پوری طرح زندہ رکھے ہوئے ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں