حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : پنج‌شنبه, 10 سپتامبر , 2026 خبر کا مختصر لنک :

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا افغان طلباء کی حمایت میں پاکستانی حکام سے اپیل

Students graduating in front of the university in formal attire

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ افغان طبی طلباء کی بے دخلی کے حوالے سے انسانی اقدامات اپنائیں تاکہ ان کی تعلیم جاری رہ سکے۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے افغان طلباء کی مدد کی اپیل کی

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ وہ افغان طبی طلباء کی بے دخلی کے معاملے میں انسانی اور عملی فیصلے کریں۔ یہ درخواست پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے ان طلباء کو ہٹانے کے ہدایت کے جواب میں دی گئی ہے۔

تنظیم نے اس کارروائی کو “غیر منطقی اور امتیازی” قرار دیا ہے، اور افغان طلباء کے تعلیمی مستقبل پر اس کے اثرات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں پر منفی اثر ڈالے گا، کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں طب کی تعلیم حاصل کرنا ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کا ایک اہم راستہ ہے۔

افغان طلباء کی تعلیمی راہ پر بے دخلی کے اثرات

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، کئی طلباء نے اپنی طبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کافی وقت اور وسائل خرچ کیے ہیں، اور کچھ تو فارغ التحصیل ہونے کے قریب ہیں۔ ان کی بے دخلی اچانک ان کی تعلیم کو روک سکتی ہے، جس کے بعد ان کے پاس دوسری جگہوں پر اپنی تعلیم جاری رکھنے کے محدود اختیارات ہوں گے۔

تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کو اپنے بین الاقوامی وعدوں کے مطابق بغیر قومیت یا قومی اصل کے امتیاز کے تعلیم کا حق یقینی بنانا چاہئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان طلباء کی مدد کے لیے عملی اور انسانی حل تلاش کریں، نہ کہ ان کی تعلیم میں رکاوٹیں ڈالیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں