ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ افغان طبی طلباء کی بے دخلی کے حوالے سے انسانی اقدامات اپنائیں تاکہ ان کی تعلیم جاری رہ سکے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ وہ افغان طبی طلباء کی بے دخلی کے معاملے میں انسانی اور عملی فیصلے کریں۔ یہ درخواست پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے ان طلباء کو ہٹانے کے ہدایت کے جواب میں دی گئی ہے۔
تنظیم نے اس کارروائی کو “غیر منطقی اور امتیازی” قرار دیا ہے، اور افغان طلباء کے تعلیمی مستقبل پر اس کے اثرات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں پر منفی اثر ڈالے گا، کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں طب کی تعلیم حاصل کرنا ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کا ایک اہم راستہ ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، کئی طلباء نے اپنی طبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کافی وقت اور وسائل خرچ کیے ہیں، اور کچھ تو فارغ التحصیل ہونے کے قریب ہیں۔ ان کی بے دخلی اچانک ان کی تعلیم کو روک سکتی ہے، جس کے بعد ان کے پاس دوسری جگہوں پر اپنی تعلیم جاری رکھنے کے محدود اختیارات ہوں گے۔
تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کو اپنے بین الاقوامی وعدوں کے مطابق بغیر قومیت یا قومی اصل کے امتیاز کے تعلیم کا حق یقینی بنانا چاہئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان طلباء کی مدد کے لیے عملی اور انسانی حل تلاش کریں، نہ کہ ان کی تعلیم میں رکاوٹیں ڈالیں۔