حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 14 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

یوروپی یونین: “ہزارہ” کی ٹارگٹ کلنگ کو روکنا ضروری ہے

یوروپی یونین کے سیاسی نمائندگان نے کہا ہے کہ سید الشہدا اسکول پر حملے میں مرنے والوں کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کا منتخب کردہ راستہ ہمیشہ جاری رہے گا۔


کابل میں یوروپی یونین کے سیاسی نمائندگان نے کہا ہے کہ ہزارہ کو نشانہ بنانا بند کیا جائے اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کی تحقیقات کی جائیں۔

کابل میں موجود یوروپی یونین (EU) کے نمائندگان نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ کہا کہ افغانستان کے لئے یوروپی یونین کے خاص نمائندے تھامس نکلسن نے مغربی کابل میں موجود سید الشہدا اسکول پر حملے میں زندہ بچ جانے والی طالبات سے ملاقات کی۔

یوروپی یونین کی سیاسی نمائندگان نے کہا ہے کہ سید الشہدا اسکول پر حملے میں مرنے والوں کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کا دکھایا ہوا راستہ جاری رہے گا۔

حال ہی میں ایوان نمائندگان کے متعدد ممبران نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو ہزارہ عوام کی نسل کشی بند کرنے کے لئے اقدامات کرنے ہونگے اور اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ عراق میں پیش آنے والی تباہی افغانستان میں بھی دہرائی جائے۔

کچھ ممبران پارلیمنٹ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اگر حکومت لوگوں کا دفاع کرنے کی قابلیت نہیں رکھتی ہے تو اسے اجازت دینی چاہئے کہ لوگ اپنی حفاظت کو خود یقینی بنائیں۔ ایوان نمائندگان میں غزنی کے نمائندے علی اکبر قاسمی نے کہا کہ دہشت گردوں نے مغربی کابل میں متعدد بار لوگوں کو نشانہ بنایا ہے۔ لیکن ہر بار ان واقعات کو فراموش کر دیا جاتا ہے اور حکومت لوگوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کچھ نہیں کرتی ہے۔

تاہم، حالیہ مہینوں میں، مغربی کابل میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ماہ میں ہی مغربی کابل میں طالبات کو ایک دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق اس اسکول کے طالبات پر دہشت گرد حملے کے نتیجے میں تقریبا ۹۰ افراد ہلاک اور مزید ۲۴۰ زخمی ہوئے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں