ورلڈ فوڈ پروگرا م (WFP) نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کو مالی امداد بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا جاۓ۔
افغانستان میں اس پروگرام کی سربراہ میری ایلن میک گروٹی نے کہا ہے کہ افغانستان اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
میک گروٹی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ۲۰۲۲ کے لیے کافی رقم موجود نہیں ہے، میں امید کرتی ہوں کہ ہم جنوری کے مہینے میں ۱۲ ملین افراد کو سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گے، لیکن پھر بھی یہ ان لوگوں کی تعداد کا ۵۰ فیصد ہے کہ جنہیں آج غذائی تحفظ بالکل بھی حاصل نہیں ہے۔
ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن کی سربراہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اربوں ڈالر کی مالی امداد کے ذریعے افغانستان میں انسانی بحران کے خاتمے میں مدد کریں۔
اقوام متحدہ کے دفتر براۓ انسانی امور کے مطابق افغانستان میں ۲۲ ملین سے زائد افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور ۵؍۸ ملین سے زائد غذائی قلت کے دہانے پر ہیں۔