کچھ خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہے کہ طالبان نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اپنے وعدوں کے باوجود افغانستان میں قومی اور مذہبی اقلیتوں پر حملے جاری رکھے ہیں اور انہیں اپنے گھروں اور زمینوں سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ شمالی افغانستان میں اب تک پانچ صوبوں میں ایک ہزار سے زائد ازبک اور ترکمان اقلیتوں اور سینکڑوں ہزارہ خاندانوں کو اپنے گھروں اور زمینوں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے۔
طالبان کا دعویٰ ہے کہ پچھلی حکومتوں میں زمین کی غیر منصفانہ تقسیم کی گئی تھی اور اب پشتون جو کہ طالبان کی اکثریت ہیں، ۲۰ ہزار ہیکٹر سے زیادہ اراضی پر قابض ہیں۔