حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 24 اکتبر , 2021 خبر کا مختصر لنک :

سفارت کاروں اور سابقہ فوجیوں کے نقطہ نظر سے افغانستان میں ۲۰ سالہ جنگ کا نتیجہ

افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاء اور طالبان کا ملک پر قبضہ، واشنگٹن کی عبرتناک شکست کی علامت ہے۔


حال ہی می ۱۱ سپتمبر ۲۰۰۱ کے حملوں کی بیسویں برسی تھی، جس میں ۲۹۷۷ امریکی ہلاک ہوئے اور دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔

“سی این بی سی” کی رپورٹ کے مطابق، اس واقعے نے امریکا اور دیگر جگہوں پر سیکورٹی کے منظر نامے کو مستقل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور حکومتوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی حکمت عملیوں، پالیسیوں اور انسداد دہشتگردی کے حربوں پر دوبارہ غور کریں۔

اس حادثے کے بعد، گزشتہ ۲۰ سالوں سے افغانستان ایک ہولناک جنگ کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد افغانستان کا ٹوٹنا اور طالبان کا ملک پر قبضہ، امریکہ کے لیے تباہ کن شکست کی علامت ہے۔

دہشت گردی کے خلاف گزشتہ دو دہائیوں کی جنگ میں لاکھوں لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں اور اربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

“سی این بی سی” نیٹورک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ریٹائر ہونے والے سی آئی اے کے کارکنان، امریکی اور برطانوی سابقہ فوجیوں اور ریٹائر سفارت کاروں کا انٹرویو لیا، اور ان سے پوچھا کہ ان کے خیال میں امریکہ نے ۱۱ سپتمبر ۲۰۰۱ سے کیا سیکھا ہے اور کس چیز کو سیکھنے میں ناکام رہا ہے۔

– نادا باکوس، سابقہ سی آئی اے تجزیہ کار

“مجھے نہیں لگتا کہ ہم نے زیادہ کچھ سیکھا ہو گا؛ مجھے لگتا ہے کہ شاید ہم ان میں سے کچھ غلطیاں دوبارہ دہرائیں گے، لیکن میں امید کرتی ہوں کہ دوسرے ممالک میں ہمارے عظیم مشن ختم ہو جائیں گے”۔

“ہمیں پتا ہے کہ ہم اپنے طریقے سے دوسرے ممالک کی تعمیر نو نہیں کر سکتے؛ ہم اس وقت اتنے سادہ لوح تھے، کہ ہم سوچتے تھے کہ ہم اس کام کو انجام دے سکتے ہیں۔”

جے، افغانستان کی جنگ میں سابقہ امریکی میرین فوجی

“میرے خیال میں بہت سے امریکیوں نے اپنی حکومت پر بھروسہ نہ کرنا سیکھ لیا ہے؛ امریکی رہنماؤں نے ۲۰ سالوں سے امریکی عوام سے جھوٹ بولا ہے، جبکہ افغانستان کی حقیقی صورت حال وہاں موجود لوگوں کے لیے کوئی پیچیدہ بات نہیں تھی”۔

“خوفناک بات یہ ہے: مجھے نہیں لگتا کہ عام لوگوں نے کچھ سیکھا ہو گا۔”

– ولیم پیٹی، افغانستان اور عراق میں برطانیہ کے سابقہ سفیر

“ہم نے یقینی طور پر عالمی دہشت گردی جیسے مسئلے سے نمٹنے کے لیے طاقت کے استعمال کی حدود کو سیکھ لیا ہے؛ ہمیں سمجھ آ گئی ہے کہ یہ ایک بہت زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔”

سید جلال کریم، افغانستانی سفارت کار اور سعودی عرب میں سابقہ سفیر

“میرے خیال میں دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ جوڑنا اس جنگ کی سب سے بڑی غلطی تھی؛ مغربیوں نے ایسے دشمن پیدا کیے ہیں جو وہاں نہیں تھے۔”

کول ٹی لائل، افغانستان کی جنگ میں سابقہ امریکی میرین فوجی اور سینیٹ کے سابقہ فوجی مشیر

“ہم نے جو سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ حکمت عملی کے میدان میں ناکام ہو سکتا ہے۔”

“واشنگٹن ڈی سی میں خارجہ اور دفاعی پالیسیاں بنانے والوں کو دنیا بھر میں امریکہ کے سٹریٹیجک مفادات کے بارے میں طویل المیعاد سوچنے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ وہ مختصر مدت میں ان کے لیے جو مفید ہو، اسکا انتخاب کریں۔”

ٹریسی والڈر، سی آئی اے کی سابقہ انسداد دہشت گردی افسر

“ہم نے ۱۱ سپتمبر کے بعد افغانستان میں جو کام کیے ہیں اس کی وجہ سے ہم نے ملکوں میں عدم استحکام پیدا کیا ہے؛ نازک یا ناکام ممالک دہشت گردی کا مرکز ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے اس کے نتیجے میں نئے مراکز بنائے ہیں۔”

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں