افغانستان کی حکمران جماعت طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا ہے کہ صدر جوبائڈن نے افغانستان میں القاعدہ کی سرگرمیوں کی نفی کی ہے۔ امریکی صدر کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان میں مسلح گروہوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
ٹوئٹر پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں مسلح گروہوں کے حوالے سے صدر جو بائیڈن کے بیان کو زمینی حقائق کا اعتراف سمجھتے ہیں۔ یہ بیان اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان پر عائد پابندیوں پر نظارت کرنے والی ٹیم کے دعوے کو مسترد کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں 20 سے زائد مسلح گروہ فعال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کی پالیسی واضح ہے اور افغانستان کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ہمارے اقدامات امریکہ سمیت کسی دوسرے ملک کے مطالبے پر نہیں بلکہ ہماری پالیسی کے تحت اٹھائے جارہے ہیں۔