ایک افغانستانی فوجی عہدیدار نے یہ اعلان کیا ہے کہ تین ہفتے کہ اندر ہی بگرام سے غیر ملکی افواج نکل جائیں گی۔
ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق، افغانستانی فوجی ذریعہ نے بتایا ہے کہ ملک میں موجود امریکی افواج ۲۰ دن میں اپنا مرکزی فوجی اڈہ، بگرام کو افغانستانیوں کے حوالے کرنے کی آمادگی کر رہی ہیں۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا میں تیزی لانے والی یہ نئی پیشرفت ہے۔
اس خبر کا ذریعہ، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا، نے بتایا کہ اس اڈے کو افغانستانیوں کے حوالے کرنے کے عمل میں شاید ۲۰ دن کا وقت لگے، لیکن عین ممکن ہے کہ اس مدت میں توسیع ہو جائے۔
امریکی فوج کے ایک ترجمان نے کہا: ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ہم جلد ہی بگرام اڈے کو حوالے کر دینگے، لیکن میں اس منتقلی کی تفصیلات اور اس عمل میں لگنے والے وقت سے مطلع نہیں ہوں۔‘
اکتوبر 2001 میں امریکی قیادت میں افغانستان پر حملے کے بیس سال گذرنے کے بعد بھی افغانستان میں امریکہ کے ۲۵۰۰ فوجی موجود ہیں، اور اسی سال کے موسم گرما میں ان کا افغانستان سے مکمل انخلا یقینی ہے۔ بگرام فوجی اڈہ، کابل سے تقریبا ۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں صوبہ پروان میں واقع ہے۔ یہ افغانستان میں مغربی افواج کا سب سے اہم عملیاتی اڈہ تھا۔
سابقہ سوویت فوجوں نے سن ۱۹۷۹ سے ۱۹۸۹ کے دورانیہ میں افغانستان پر قبضہ کے دوران یہ اڈہ تعمیر کیا تھا۔ سن ۲۰۱۱ میں جب غیر ملکی افواج کی افغانستان میں سرگرمیاں اوج پر تھیں، اس اڈے میں ۳ لاکھ فوجی مقیم تھے، جن میں فرانسیسی افواج، امریکی افواج، نیٹو افواج، اور سویلین افواج شامل تھیں۔ بیس کو حراست میں لینے اور گرفتار رکھنے کے مرکز کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس عمل مذمت کی، اور اڈے کے گوداموں کو “ٹارچر سل” کے طور پر استعمال کیئے جانے پر بھی روشنی ڈالی۔