حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 28 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کی صورت میں ہم اس کا جواب دیں گے: طالبان ترجمان

طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پوری طرح سے افغانستان نہیں چھوڑتا ہے تو ان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔


الجزیرہ کے مطابق سہیل شاہین، طالبان کے ترجمان نے الجزیرہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا: اگر امریکہ اپنی دی گئی ڈیڈ لائن اور ۱۱ ستمبر کے بعد بھی افغانستانی سر زمین پر موجود رہتا ہے تو اس صورت میں طالبان یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ اس موجودگی کے رد عمل میں ان کا جواب دیں۔

طالبان کے ترجمان نے مزید کہا: امریکہ اگر کسی بھی وجہ سے افغانستانی سرزمین پر اپنی افواج کے کچھ حصے کو رکھنا چاہتا ہے تو یہ واشنگٹن اور طالبان کے مابین امن معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہوگی جس پر دونوں فریقین کے نمائندوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دستخط کیے تھے۔

سہیل شاہین نے مزید کہا: ہم نے امن معاہدے تکمیل کی خاطر امریکی فریق سے ۱۸ ماہ تک مذاکرات کیے تھے۔ انہوں نے افغانستان سے اپنی تمام افواج واپس بلا لینے کا وعدہ کیا تھا۔ امریکیوں کو اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا: افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی خواہ وہ کسی بھی بہانے سے ہو افغانستان پر قبضے کا تسلسل ہے اور طالبان اس کا جواب دے سکتے ہیں۔

امریکی عہدے داروں نے حالیہ دنوں میں یہ کہا کہ ممکن ہے کہ تقریبا ۶۵۰ امریکی فوجی ملکی سفارت کاروں کی حفاظت کے قصد سے افغانستان میں باقی رہیں۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کی تیزی سے انخلا کے بعد اب امریکی موقف میں تبدیلی کے بعد ان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی مفادات کے بارے میں اپنی نظارت کم نہیں کریں گے اور انخلا کے باوجود افغانستان میں ہونے والی پیشرفت اور سیاسی پیشرفت پر کڑی نظر رکھیں گے۔ اس موقف میں تبدیلی کے نتیجے میں افغانستان میں بہت سے سیاسی گروہوں کا رد عمل سامنے آیا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں