ایک رپورٹ میں ایس آئی جی اے آر نے کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایس آئی جی اے آر نے اقوام متحدہ کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2021 کے بعد افغانستان میں 35 فیصد لڑکیوں کو 18 سال کی عمر سے پہلے اور 17 فیصد لڑکیوں کو 15 سال کی عمر سے پہلے ہی شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ایس آئی جی اے آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2022 سے فروری 2023 کے درمیان جبری شادی کے 578 کیس درج کیے گئے، جن میں سے 361 نابالغ تھیں۔