حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 28 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

افغانستانی فوجیوں کو طالبان میں شمولیت کی ترغیب، کئی قبائلی رہنما گرفتار

افغانستانی حکام اور قانون سازوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ سرکاری افواج کو طالبان میں شمولیت کی ترغیب دینے پر درجنوں قبائلی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔


عرب نیوز کے مطابق کچھ افغانستانی عہدیداروں اور قانون سازوں نے بتایا کہ سرکاری افواج کو طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور طالبان میں شامل ہونے کی ترغیب دینے پر تمام افغانستان سے درجنوں قبائلی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا: کابل کے فوجیوں کو اپنے اڈے چھوڑنے کی یہ ترغیب قبائلی رہنماؤں کی جانب سے دشمن کے ساتھ کھلا تعاون ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان طارق آریان نے اس بارے میں کہا: درجنوں قبائلی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے مقدمات قانونی اور عدالتی حکام کو بھیجے جا چکے ہیں۔

صوبہ نورستان کے پولیس چیف عقل شاہ خلواتی نے بتایا کہ اس ماہ کے شروع میں اس علاقے کے ۱۹ قبائلی سربراہوں کو اپنی زمینیں طالبان کے حوالے کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا: حراست میں لئے گئے قبائلی رہنماؤں میں سے کچھ کا کہنا تھا کہ انہیں طالبان نے مجبور کیا کہ وہ طالبان اور فوجیوں کے مابین ثالثی کریں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس سے متعلق کہا: ہم نے قبائلی رہنماؤں کے وفد کو کچھ علاقوں میں بھیجا تھا، لیکن ہم نے کسی کو مجبور نہیں کیا کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کرے۔

کچھ افغانستانی قانون سازوں نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی افواج کو طالبان کے آگے تسلیم ہونے سے روکیں۔

طالبان نے یہ دعوی کیا ہے کہ انہوں نے امریکی فوجیوں کے انخلا کے شروع ہونے سے اور مئی ماہ کے آغاز سے ہی افغانستان میں ۲۰ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ حکومت نے بھی کچھ علاقوں پر طالبان کے قبضے کی خبر کی تصدیق کی، لیکن اس قبضے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکہ کا ۱۱ویں ستمبر تک افغانستان سے خروج کے اعلان سے افغانستان میں تناؤ بڑھتا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان کا یہ امکان کا اظہار کہ وہ طاقت کے زور پر اقتدار پر دوبارہ قبضہ کر سکتے ہیں، کابل میں پریشانیوں کا سبب بن چکا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں