حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : چهارشنبه, 2 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

غیر ملکی افواج کے ساتھ تعاون کرنے والوں کا انجام کیا ہوگا؟ تشویش میں اضافہ

وہ عام شہری جنہوں نے افغانستان میں غیر ملکی افواج کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعاون کیا تھا، وہ اب طالبان کے حملوں کے امکان سے پریشان ہیں۔


خبر رساں ادارے گارڈین کے مطابق، آنے والے مہینوں میں افغانستان کی سرزمین پر موجود غیر ملکی افواج کو مکمل طور پر یہ سرزمین چھوڑنی ہوگی۔ اس عمل سے ملکی سیاسی مستقبل کو لے کر مختلف رد عمل سامنے آرہے ہیں۔

وہ افغانستانی شہری جنہوں نے اس دورانیہ میں غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کیا تھا وہ اپنی جان کو درپیش خطروں پر پریشان ہیں۔

افغانستان میں آسٹریلیائی فوج میں مترجم کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے فرجاد نے بتایا: میں نے اس دوران میں آسٹریلیائی فوج کے مترجم کی حیثیت سے کئی بار ان کی زندگیاں بچائیں ہیں۔ میں نے کئی بار طالبان کی سرگرمیوں کا سراغ لگایا اور جب بھی مجھے محسوس ہوا کہ ان کو کوئی خطرہ لاحق ہے، میں نے اس خبر سے ان کو آگاہ کیا۔ اس عمل سے، میں نے کئی بار آسٹریلیائی افواج کو طالبان کے حملوں سے بچایا۔

انہوں نے مزید کہا: اب جب آسٹریلیائی افواج افغانستان سے جا رہی ہیں، مجھے ڈر ہے کہ میں طالبان کے ہاتھوں پکڑا جاوں گا اور مار دیا جاوں گا۔ میری رہائش گاہ سے طالبان کی مقام گاہ بہت نزدیک ہے۔ میں اپنے اور اپنے گھر والوں کے حوالے سے بہت پریشان ہوں۔

فرجاد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اس سے قبل اس کے خاندان کے کچھ افراد کو بھی طالبان نے ہلاک کیا تھا، اور مزید کہا: پچھلے سالوں کے مقابلے میں آج کے طالبان بہت زیادہ مضبوط ہیں۔ ان کے پاس جدید اسلحے تک رسائی ہے۔ مجھ جیسے لوگ جنہوں نے طالبان کے خلاف جنگ کی پہلی صفوں میں جد و جہد کی تھی وہ یقینی طور پر ان لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں جو غیر ملکی افواج کے انخلا اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مار دیئے جائیں گے۔

 

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں