موجودہ صورتحال کے مد نظر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے افغانستان کے لوگوں کی امداد کی خاطر انسان دوستی کانفرنس کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹیریز نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے لوگوں کو انسانی امداد فراہم کریں۔
اس خبر کے مطابق افغانستان میں تقریبا ۳ کروڑ ۸۰ لاکھ افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے؛ یہی وجہ ہے کہ گٹیریز نے اپنے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام نشر کیا جس میں انہوں نے افغانستانی عوام کی انسانی امداد کی اپیل کی۔
گٹیریز نے پیغام میں کہا: افغانستان میں بچوں، عورتوں اور مردوں کو ہمیشہ سے زیادہ اب مدد کی ضرورت ہے۔ میں ۱۳ ستمبر کو ایک انسان دوستی کانفرنس کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ افغانستان کے لیے انسانی امداد پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے مزید کہا: افغانستان اس وقت ایک انسانی بحران کے دہانے پر ہے۔ بین الاقوامی برادری کو افغانستان کی مدد کرنا چاہئے۔ میں انسانی امداد تک آسان رسائی کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان کے لوگ اپنی ضرورت کی مدد حاصل کرسکیں۔ اقوام متحدہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی حمایت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کو افغانستان میں انسانی امداد جاری رکھنے کے لیے ۱ عشاریہ ۳ ارب ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن اب تک اس رقم کا صرف ۳۹ فیصد حصہ جمع ہوسکا ہے۔
یونیسیف کے مطابق ۴۰ لاکھ سے زائد بچے، جن میں ۲۲ لاکھ لڑکیاں شامل ہیں، اسکول چھوڑ چکے ہیں اور ۳ لاکھ کے قریب بچے اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یونیسیف نے دنیا کے ممالک سے خواہش کی ہے کے افغانستان کی بگڑتی صورتحال میں، اور بڑھتی مدد کی ضرورت کے وقت میں افغانستانی بچوں کو اکیلا نہ چھوڑیں۔