حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : پنج‌شنبه, 3 سپتامبر , 2026 خبر کا مختصر لنک :

مغربی ممالک میں افغان تارکین وطن کا اقتصادی اور نفسیاتی دباؤ

ایک آدمی کی تقریر ایک منبر پر بیٹھے لوگوں کے درمیان، اور انسانی امداد کے بیگ

مغربی ممالک میں مقیم افغان تارکین وطن نے اپنی فیملیز کو ادائیگیاں کرنے کے باعث اقتصادی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنے کی شکایت کی ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات اور روزگار کے چیلنجز انہیں سخت محنت کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔


مغرب میں افغان تارکین وطن: اقتصادی دباؤ اور گھر بھیجنے کی ذمہ داری

یورپ اور امریکہ میں موجود کئی افغان تارکین وطن نے اپنی فیملیز کو افغانستان میں پیسے بھیجنے کے سبب ہونے والے اقتصادی دباؤ کے تجربات کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میزبان ممالک میں بلند رہائشی اخراجات ان پر شدید نفسیاتی دباؤ ڈالتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے افراد سخت محنت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کی مدد کر سکیں۔

جویڈ، جو جرمنی میں رہائش پذیر ہے اور ایک لاجسٹکس کمپنی میں کام کر رہا ہے، کہتا ہے کہ یورپ میں بلند زندگی کے اخراجات کے باوجود نوجوانوں کو اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ گھر بھیجنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ وہ کہتا ہے، “یہاں نوجوان افراد روزانہ تقریباً آٹھ سے دس گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کو پیسے بھیج سکیں۔ چاہے ایک نوجوان نے ماہانہ $1,700 یا $1,800 کمایا ہو، اور $1,000 افغانستان میں اپنے خاندان کو بھیجا ہو، یہ اب بھی ناکافی سمجھا جاتا ہے۔”

تارکین وطن کی مالی مدد: افغانستان میں خاندانوں کی واحد امید

افغانستان میں نوجوان تارکین وطن کے خاندان ان مالی رقوم پر انحصار کرتے ہیں، اور ان کے بغیر روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک افغان رہائشی، جو نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتا ہے، کہتا ہے، “میرا چچا ہمیں بیرون ملک سے پیسے بھیجتا ہے، اور اس حمایت کے بغیر ہماری روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنا بہت مشکل ہوگا۔”

اقتصادی ماہر آذرخش حافظی نے یہ نوٹ کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم افغانوں کی بھیجی گئی رقوم کا ایک حصہ اپنے خاندانوں اور افغانستان میں دیگر اخراجات کی مدد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں، “افغانوں نے بیرون ملک سے جو رقم بھیجی ہے وہ $2.7 بلین سے $3.5 بلین کے درمیان ہے، جو اپنے خاندانوں اور خیراتی تنظیموں کے لئے ہے۔ افغانستان میں غربت بڑھ رہی ہے، جس سے خاندانوں کا تارکین وطن کی مالی مدد پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔”

افغانستان میں اقتصادی چیلنجز اور ان کے اثرات

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے پیش گوئی کی ہے کہ 2025 تک تقریباً 74% افغان بنیادی زندگی کی ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی، عالمی بینک نے ملک میں غربت اور خوراک کی عدم تحفظ کے جاری چیلنجز کی رپورٹ کی ہے۔ تارکین وطن سے آنے والی رقوم افغانستان میں خاندانوں کے روزمرہ کے اخراجات پورا کرنے کے لئے ایک اہم وسیلہ بنی ہوئی ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں