حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : چهارشنبه, 23 فوریه , 2022 خبر کا مختصر لنک :

یونیسیف: افغانستان میں رواں سال ۲؍۳ ملین بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گے

آریانانیوز: اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے اپنے ٹویٹر پر اعلان کیا ہے: اس سال افغانستان میں پانچ سال سے کم عمر کے ۲؍۳ ملین بچوں کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کی توقع ہے۔


یونیسیف نے نیوٹریشن کنسلٹنٹس کی تعداد بڑھانے، موبائل ہیلتھ نیوٹریشن ٹیموں کو دوگنا کرنے اور مزید معالجاتی غذا لانے پر زور دیا ہے۔

تقریباً ۱۰ دن پہلے، اس تنظیم نے افغانستان میں قبل از وقت پیدائش کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں مزید مدد اور ادویات کی ضرورت ہے۔

یہ خدشات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جبکہ ۶ ماہ قبل افغانستان میں ہونے والی سیاسی اور عسکری پیش رفت کے ساتھ، بین الاقوامی امدادی اداروں نے اس ملک میں انسانی بحران سے خبردار کیا تھا۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے حکام نے ایک حالیہ تحقیقی دستاویز میں کہا ہے کہ افغانستانی عوام کو بھوک کے سونامی کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹیرس نے حال ہی میں کہا تھا کہ افغانستان کی معیشت زوال کے راستے پر ہے اور اسے گہری کھائی کے دہانے سے واپس لانے کے لیے فوری طور پر رواں اثاثوں (لیکویڈیٹی) کو انجیکٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

شریک یي کړئ!
[bws_google_captcha]

زیادہ ملاحظہ کی جانے والی خبریں

    منتخب خبریں