غزنی کے مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ غزنی کے ایک علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہزارہ برادری کے ۵ افراد جاں بحق ہو گۓ ہیں۔
غزنی کے مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جاغوری اور قرہ باغ کے درمیانی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے وحشیانہ انداز سے فائرنگ کر کے ہزارہ برادری کے ۵ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
ان کی لاشوں کو صوبہ غزنی کے ایک اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لوگ قرہ باغ اور جاغوری کے رہائشی ہیں، کہ جنہیں قرہ باغ شہر کے سرحدی علاقے “تغچین تماکی” میں صرف اس لیے بے دردی سے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے کیونکہ انکا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔
ایک ذریعے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ، “مالستان، ناہور، قرہ باغ اور جاغوری کے رہائشیوں کو اب دوبارہ اسی طرح مارا جا رہا ہے جیسا کہ انہیں سابقہ حکومتوں میں صرف ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا تھا۔”
انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر ان لاشوں کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ، ابھی تک ان لوگوں کی “شہادت” کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں اور مقامی حکام نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ غزنی میں ہزارہ کے شہریوں کو اس طرح قتل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل، سابقہ حکومت کے دورانیے میں غزنی میں ایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔