ہندوستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد افغانستان میں امن و استحکام کے لئے کوششیں کرنے کو تیار ہیں۔
خبر رساں ادارے ہٹواڈا کی ویب سائٹ کے مطابق، ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور افغان صدر محمد اشرف غنی کے مابین ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے خطے میں امن اور استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔
ہندوستانی وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان سے مغربی افواج کی واپسی نئی دہلی اور کابل کے تعلقات کو دوبارہ بڑھانے کا اچھا موقع ہے۔
انہوں نے افغانستان کے سیاسی مستقبل کے لئے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہندوستان افغانستان میں سیاسی عہدوں کی تشکیل، اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لئے کسی طرح کی مدد کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔
ہندوستان کے وزیر اعظم نے مزید تاکید کی: نئی دہلی افغانستان کے سیاسی مستقبل میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے کیونکہ افغانستان سے اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔
ماضی میں ہندوستان اور افغانستان کے مابین تعمیری اسٹریٹجک تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ہم پہلے ہی طالبان حکام کے ساتھ ہر طرح کے تعاون پر تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔ نئی دہلی کے عہدیدار ۱۰ روزہ استنبول اجلاس میں شرکت کریں گے اور افغانستان کی مدد کی خواہش کا اظہار کریں گے۔
نریندر مودی نے طالبان اور ہندوستان کے مابین اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اگرچہ طالبان نے برسوں سے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت کی ہے جن کی سرگرمیوں کا مقصد ہندوستان اور پاکستان کے مابین اختلافات کو بڑھانا تھا، لیکن نئی دہلی کے عہدیدار ایک بار پھر طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر امن قائم کرنے کے لئے تیار ہیں۔
یہ قرار پایا گیا تھا کہ تمام غیر ملکی افواج ۱۱ ستمبر کی ۲۰ ویں برسی سے قبل ہی افغانستان سے روانہ ہو جائیں گی۔ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ افغان مرکزی حکومت کے حق میں ہے، جبکہ کچھ اس انخلا کی مخالفت کرتے ہیں۔ بہر حال، طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آنا تشویش کا باعث ہے۔ کچھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ امریکہ افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔