انسانی حقوق کی نگران کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی 22 ویں سالگرہ کے موقع پر طالبان کی جانب سے دوحہ معاہدے پر عمل درامد کے بجائے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔
ادارے کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگست میں حالات میں غیر معمولی تبدیلی حادثاتی نہیں ہے چون دنیا کے اکثر سفارت کار گرمیوں کی چھٹیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ طالبان نے گذشتہ سال ایک ہفتے کے اندر افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیمی مراکز میں اعلی تعلیم سے منع کیا تھا۔
کونسل کے نگران نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 54 ویں اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے شرکاء کو چاہئے کہ افغانستان میں بین الاقوامی سطح پر خواتین کے حقو قکی خلاف ورزی کے شواہد اکٹھا کریں۔
ہیومن رائٹس کونسل نے اجلاس کے شرکاء سے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت کے ذریعے غیر ملکی فورسز کے ہاتھوں افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔