آریانانیوز: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلان کیا ہے کہ طالبان کی حکومت کے ایک سال بعد افغانستان اب تباہی کے ایسے دہانے پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔
اس ادارے نے اپنی ویب سائٹ اور عمومی ذرائع ابلاغ (سوشل نیٹ ورکس) پر ایک ڈیجیٹل خط شیئر کرتے ہوئے شہریوں اور انسانی حقوق کے محافظوں سے اس خط پر دستخط کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دورانیے میں طالبان نہ صرف اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں ، بلکہ انہوں نے تشدد کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے اور پورے اطمینان کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔
ادارے کی جانب سے نشر کئے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایک سال میں طالبان گروپ نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے اہم اور بنیادی اداروں کو منظم طریقے سے تحلیل کر دیا ہے اور آزادی اظہار رائے، انجمن سازی، منصفانہ محاکمہ اور دیگر تمام حقوق پر دباؤ ڈالا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق چھین لیے گئے ہیں اور ہزاروں افاغنہ کو من مانی طور پر گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اسی طرح سینکڑوں افراد کو لاپتہ اور یہاں تک کہ قتل بھی کیا گیا ہے۔