آریانانیوز: اقوام متحدہ کےآبادی فنڈ(United Nations Population Fund) کے سربراہ الاسکندر بدیروزہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں حفظانِ صحت کا نظام تباہ ہوچکا ہے اور بنیادی افراد کے فرار کی وجہ سے ملک کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں کافی مشکلات درپیش ہیں۔
یو این پی ایف (UNPF)کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے اندازے کے مطابق معاشی بحران اور حفظانِ صحت کے نظام کی تباہی کی وجہ سے 2022 سے 2025 تک51 ہزار خواتین بچے کی پیدائش کے دوران ہلاک ہو سکتی ہیں؛ جبکہ حمل ٹھہرنے کی شرح 4.8 ہوگی۔
اپنے بیانات کے تسلسل میں بدیروزہ نے افغانستان کو خواتین بالخصوص حاملہ خواتین کے لیے بدترین ملک قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک ایک خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے۔