افغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کے لیے امریکی نمائندہِ خصوصی، رینا امیری کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ تعلقات اس وقت تک معمول پر نہیں آسکیں گے جب تک طالبان افغانستانی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل نہیں کرتے۔
امیری نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ انہوں نے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر سے جنیوا میں پنجشیر کی خواتین اور لڑکیوں، ہزارہ، ہندوؤں، سکھوں، اور دیگر شہریوں کی صورتحال کے بارے میں بات کی۔
رینا امیری نے لندن میں متعدد افغانستانی خواتین سے ملاقات میں کہا: جب تک طالبان افغانستانی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کرتے، ان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ہیں۔
امیری کے مطابق، انہوں نے لندن میں ہزارہ کے متعدد نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ہزارہ برادری کے خلاف ۲۵۰ ٹارگٹ حملے ہوئے ہیں۔
امیری کے مطابق، ہزارہ برادری کے نمائندے عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس تشدد کو با قاعدہ طور پر پہچانیں اور مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالیں۔