حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : پنج‌شنبه, 19 آگوست , 2021 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان کی عوام امریکہ سے ناراض ہے: سی این این

سی این این کے ایک صحافی نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی تیزرفتار اور ہنگامہ خیز انخلا پر افغانستانی عوام میں بڑے پیمانے پر غصہ اور مایوسی پائی جاتی ہے۔


سی این این کی سینئر بین الاقوامی خبر نگار کلاریسا وارڈ نے کابل سے دی جانے والی رپورٹ میں کہا: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ لوگ خوفزدہ ہیں۔ افغانستان کے لوگوں کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: افغانستانی عوام کو یہ توقع تو نہیں تھی کہ امریکی افواج ایک غیر معینہ مدت تک افغانستان میں رہیں گے اور ان کی خاطر لڑتے رہیں گے۔

لیکن اس کے باوجود، افغانستان سے امریکی افواج کے تیزرفتار اور ہنگامہ خیز انخلا پر افغانستانی عوام میں شدید غصہ اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اگر چاہتا تو افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتا تھا جس سے یہ قدم منظم بنایا جاسکتا تھا۔

کابل میں سی این این کے نمائندے نے یہ بھی کہا: امریکی فوج افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے امکان پر غور کر رہی ہے۔ یہ خبر دو ذرائع سے شائع ہوچکی ہے۔ ان میں سے ایک ذریعہ امریکی محکمہ دفاع کے عہدیدار ہیں، اور دوسرا ذریعہ وہ شخص ہے جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں ملوث تھا۔

انہوں نے مزید کہا: دونوں ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اس معاملے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل فریڈ میکنزی آج افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کی براہ راست نگرانی کے لیے خلیج پہنچ گئے ہیں۔ اس امریکی جنرل کی موجودگی کا مقام مشخص نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن وہ افغانستان میں موجود نہیں ہیں۔

دریں اثنا، وائٹ ہاؤس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر افغانستان کی موجودہ پیش رفت کے بارے میں لکھا: آج صبح امریکی صدر اور نائب صدر نے قومی سلامتی کی ٹیم اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تاکہ افغانستان میں غیرعسکری امریکی اہلکاروں کے انخلا، تارکین وطن کی خصوصی ویزا درخواستوں، دیگر افغانستان اتحادیوں کے انخلا، اور کابل کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیکل موریل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انٹیلی جنس کی ناکامی کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ کئی حکومتوں کی سیاست میں متعدد ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔

ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: طالبان کا افغانستان پر قبضہ امریکہ اور دنیا کی قومی سلامتی کے لیے ایک افسوسناک اور خطرناک واقعہ ہے۔ دنیا بھر کے جہادیوں نے اس پر جشن منایا ہے۔

 

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں