حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : چهارشنبه, 24 دسامبر , 2025 خبر کا مختصر لنک :

طالبان کی جانب سے پاکستان کے خلاف جامع سفارتی دستاویز کی تیاری

طالبان حکومت کے قریبی ذرائع کا انکشاف ہے کہ کابل نے پاکستان کے خلاف ایک اہم سفارتی دستاویز تیار کی ہے۔ یہ دستاویز عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے رکھی جائے گی، جس میں اسلام آباد پر دہشت گرد گروپوں، بشمول بلوچستان میں داعش کی تربیت، اقتصادی ناکہ بندیوں کا نفاذ، اور افغان باشندوں و پناہ گزینوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں...


کابل کی نئی دستاویز پاکستان پر داعش کی حمایت اور پناہ گزینوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتی ہے

طالبان کی حکومت سے منسلک ذرائع نے بتایا ہے کہ کابل پاکستان کے خلاف ایک جامع سفارتی دستاویز کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ یہ دستاویز جب طالبان کے رہنما ہیبت اللہ آخوندزادہ کی منظوری کے بعد عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کو بھیجی جائے گی، تو اس میں اسلام آباد کے خلاف سنگین سیکیورٹی، اقتصادی اور انسانی حقوق کے الزامات شامل ہوں گے۔

سیکیورٹی الزامات اور دہشت گردی کی حمایت

بھارتی میڈیا نے انڈین نیوز آؤٹ لیٹ CNN-News18 کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کے وزرات خارجہ اور وزارت داخلہ نے پاکستان پر دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے مرکز بننے کا الزام عائد کیا ہے۔ سیکیورٹی الزامات کے اہم نکات میں شامل ہیں:

  • بلوچستان اور داعش: طالبان کا دعویٰ ہے کہ داعش کے عناصر پاکستان کے بلوچستان صوبے میں تربیت حاصل کرتے ہیں اور انہیں افغانستان اور اس کے اطراف میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
  • انٹیلی جنس کی حمایت: پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں، بشمول انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI)، داعش اور دیگر مسلح گروپوں کو لوجسٹک اور مالی امداد فراہم کرنے کے الزام میں ہیں۔

طالبان کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی حمایت کے لیے کافی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔ تاہم، طالبان نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں، جبکہ اسلام آباد کی موجودہ مانگوں کو غیر قانونی اور غیر عملی قرار دیا ہے۔

ہیومن رائٹس کی خلاف ورزیاں اور اقتصادی ناکہ بندی

طالبان کی یہ دستاویز دو دیگر اہم شعبوں پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے:

  • پناہ گزینوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں: پاکستان میں افغان باشندوں اور پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک کی شدید تنقید کی گئی ہے۔ الزامات میں پناہ گزینوں کا وسیع پیمانے پر بے دخل کرنا، طبی و تعلیمی ویزوں کی منسوخی، اور مہاجرین کے ساتھ بدسلوکی، تشدد، اور ذلت شامل ہیں۔
  • اقتصادی ناکہ بندی: طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سرحدی گزرگاہیں بند کرکے اور تجارتی نقل و حمل معطل کرکے افغانستان کو اقتصادی محاصرے میں رکھ دیا ہے، اور ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور 1965 کے لینڈ لاکڈ ریاستوں کی تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

یہ دستاویز اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین، روس، چین، ایران، بھارت، اور وسطی ایشیائی ممالک جیسے اداروں کو بھیجے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تنازعات کا پس منظر

طالبان اور پاکستان کے درمیان تعلقات حالیہ مہینوں میں سرحدی حملوں، پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک دوسرے پر الزامات، اور افغان پناہ گزینوں کے وسیع پیمانے پر اخراج کی وجہ سے کافی خراب ہو چکے ہیں۔ یہ تناؤ پہلے بھی کئی بار مذاکرات کے ساتھ حل کرنے کی کوششوں کا باعث بن چکا ہے، تاہم یہ کوششیں نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

زیادہ ملاحظہ کی جانے والی خبریں

منتخب خبریں